لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

میرا سوال یہ ہے کہ میں نے سونار کے ساتھ بکنگ کی جس وقت سونے کی پرائز کم تھی اور کچھ پیسے بھی ادا کیے اور ساتھ یہ بھی طے ہواگیا کہ میں اسے قسطوں پہ ادا کروں گا اور پرائز پرانی ہی لگے گی، میں سال سے ڈیڑھ سال کے دوران اس کو پیسے ادا کرکے جو پرائز طے ہوئی تھی اس وقت کی وہ دوں گا۔ کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

سونے چاندی کا لین دین اگر سونے چاندی کے عوض میں ہی ہو تو ایسی صورت میں ادھار لین دین جائز نہیں لیکن اگر سونے یا چاندی کا لین دین نوٹ اور روپے کے عوض میں ہو تو اس صورت میں ادھار لین دین جائز ہے لیکن کسی ایک جانب فی الحال مجلس عقد میں قبضہ ضروری ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں  لفظ بکنگ سے معلوم ہورہا ہے کہ سونے کی بکنگ ہوئی ہے،عقد مکمل ہوکر سونے پر قبضہ نہیں ہوا بلکہ ڈیڑھ سال کے بعد ہوگا۔ اگر واقعۃً مشتری نے سونے پر قبضہ نہیں کیا تو یہ معاملہ فاسد اور ناجائز ہے۔ البتہ آپ کی جمع کردہ رقم آپ کو مکمل واپس ملے گی۔

[تنبيه] سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشتری مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين قال: ومثله ما لو باع فضة أو ذهبا بفلوس كما في البحر عن المحيط قال: فلا يغتر بما في فتاوی قارئ الهداية من أنه لا يجوز بيع الفلوس إلی أجل بذهب أو فضة لقولهم لا يجوز إسلام موزون في موزون وإلا إذا كان المسلم فيه مبيعا كزعفران والفلوس غير مبيعة بل صارت أثمانا اهـ.قلت: والجواب حمل ما في فتاوی قارئ الهداية، علی ما دل عليه كلام الجامع من اشتراط التقابض من الجانبين فلا يعترض عليه بما في البزازية المحمول علی ما في الأصل، وهذا أحسن مما أجاب به في صرف النهر من أن مراده بالبيع السلم والفلوس لها شبه بالثمن، ولا يصح السلم في الأثمان ومن حيث إنها عروض في الأصل اكتفي بالقبض من أحد الجانبين تأمل (رد المحتار، كتاب البيوع، باب الربا، مطلب في استقراض الدراهم عددا)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4259 :

لرننگ پورٹل