لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

میرے سسر کا انتقال بیس سال قبل ہوا، ان کے ورثاء میں ان کی بیوہ ، ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ میرے سسر کا ایک مکان ہے جوکہ میری ساس نے سسر کے انتقال کے بعد اپنے تینوں بیٹوں کو ایک ایک پورشن دےدیے تھے، اب دوسال قبل میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے، میرے شوہر سے تین بچے ہیں، ایک بیٹی اور دو بیٹے۔ آٹھ ماہ قبل میرا نکاح ہوگیا، میرے شوہر کے پورشن سے جوکرایہ مل رہا تھا میرے سسرال والوں کا کہنا ہے کہ اب وہ نہیں ملے گا کیونکہ میں نے نکاح کرلیا ہے، میرے بچوں کا کوئی حق نہیں، جب گھر فروخت کردیا جائے گا تو حصہ مل جائے گا۔ اب آٹھ ماہ سے اسی پورشن کا کرایہ میری ساس لے رہی ہیں۔ اس حوالے سے میری رہنمائی فرمائیے۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں بوقت انتقال آپ کے سسر کی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ جائیداد، نقدی سونا چاندی اور چھوٹا بڑا جو بھی سامان تھا، حتی کہ سوئی دھاگہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، سب سے پہلے اس میں سے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالا جائے، اس کے بعد مرحوم کے ذمے کسی کا قرض ہو تو کل مال سے اس کو ادا کیا جائے، اس کے بعد مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال   کی حد تک اس پر عمل کیا جائے، اس کے بعد بقیہ مال کو72 حصوں میں تقسیم کرکے  مرحوم کی بیوہ کو 9 حصے،  مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 14 حصے اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 7 حصےملیں گے۔ صورت  تقسیم یہ ہے: 

ورثاء 

 بیوہ 

بیٹا  

 بیٹا 

 بیٹا 

 بیٹی

بیٹی 

 بیٹی

 مسئلہ

 1

  7

 تصحیح72

 9  

14 

 14 

 14 

7

 7

لہذا اس شرعی تقسیم کے بغیر آپ کی ساس کا مذکورہ مکان کو اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کردینا درست عمل نہیں۔  فوت شدہ بیٹے کی بیوہ اور اولاد کو مکان سے نکال دیناجائز نہیں بلکہ ان کومرحوم بیٹے کا حصہ میراث کی مذکورہ بالا تقسیم کے مطابق دےدیا جائےاس کے بعد نکال سکتی ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4272 :

لرننگ پورٹل