لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

ہمارے محلے میں ایک لڑکے نے اپنی بیوی کو بچے کی پیدائش کے تیسرے دن کہا، ’’جا تجھے طلاق دی‘‘، اس کے بعد وہ پریشان ہوگیا کہ یہ میں نے کیا کردیا، پھر اس نے محلے میں مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تم نے ایک طلاق دے دی ہے اب تم رجوع کرلو تو اس نے رجوع کرلیا۔ تیس دن بعد ان کے گھر میں پھر جھگڑا ہوااتو اس لڑکے نے اپنی بیوی کے دو مرتبہ کہا،’’جا میں نے تجھے طلاق دی، جا میں نے تجھے طلاق دی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوگئی؟ یا اب بھی ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش باقی ہے؟ ان کی دو بچیاں ہیں، ایک ابھی پیدا ہوئی تھی اور ایک دو سال کی ہے۔ ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی ہے، اس کی بیوی کہتی ہے کہ پہلی طلاق اس نے فون پر دی تھی اور اس نے جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی فون بند کردیا تھا، شوہر کہتا ہے کہ میں نے جملہ کہہ کر فون رکھا تھا اور بیوی نے پہلے ہی فون رکھ دیا تھا، یہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، برائے مہربانی جلد رہنمائی فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں مجموعی اعتبار سے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اب رجوع جائز نہیں بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا عورت اپنی عدت  (تین حیض اگر حاملہ نہ ہو ) پوری کر کے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتی تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. (الفتاوی الهندية، كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4280 :

لرننگ پورٹل