لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

 6،مارچ 2020ء کی رات کو ہمارے والد کی وفات ہوئی، شرعی اصول کے مطابق والد کی جائیداد کی تقسیم میں رہنمائی مطلوب ہے۔ 

1۔ ہمارے والد صاحب نے زمین فروخت کرکے اس کی رقم ایک کاروبار میں انویسٹ رکھی تھی اور ہماری والدہ کو نصیحت کی تھی کہ یہ رقم ہماری والدہ کے استعمال میں رہے گی جب تک ہماری والدہ حیات ہے اور ان کے بعد بچوں میں تقسیم ہوگی۔ شرعی اصول کے مطابق اس وصیت کی کیا حیثیت ہے؟ اگر رقم تقسیم ہوگی تو اس میں بچوں کا اور بیوی کا کتنا حصہ ہوگا؟ 

2۔ کیا اس رقم کی زکوۃ نکلتی ہے؟ کیونکہ اس رقم سے جو ماہانہ منافع آتا تھا وہ ان کے روز مرہ استعمال میں تھا۔

3۔ کیا اس رقم سے ہمارے والد کی قضا نماز اور روزوں کا فدیہ دیا جاسکتا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔چونکہ وارث کے حق میں شرعا وصیت جائز نہیں، لہذا سوال میں مذکور رقم میں مرحوم کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا ،بلکہ یہ رقم دیگر ترکہ میں شامل ہوکر  تمام ورثاء کے درمیان شرعی قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگی۔ البتہ اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور وہ اپنی خوشی سے مذکورہ رقم کو والدہ کے تصرف میں دیدیں تو یہ صورت جائز ہوگی۔

2۔ اگرچہ مرحوم مذکورہ رقم کے ماہانہ منافع کو استعمال میں لاتے تھے تاہم یہ رقم بھی قابل زکوۃ ہے، شرعا اصل رقم پر زکوۃ لازم تھی، اب مرحوم کے انتقال کے بعد یہ رقم تقسیم ہوکر جس کی ملک جتنی آئے گی وہ اپنے حصے کی زکوۃ ادا کرے گا۔

3۔اگر مرحوم نے نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی  ہے تو حقوق واجبہ کفن دفن اور قرض کی ادائیگی کے بعد مال کے تہائی حصہ کی حد تک اس وصیت پر عمل کیا جائے گا۔ اگر وصیت نہیں کی تو ورثہ کےذمہ فدیہ ادا کرنا لازم نہیں ہے، تاہم بالغ ورثاء اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں کا فدیہ ادا کردیں تو ان شاء اللہ اللہ تعالی کی ذات سے قبولیت کی امید ہے۔

قال المرغيناني في الوصية:(ولا تجوز لوارثه) لقوله – عليه الصلاة والسلام – «إن الله تعالی أعطی كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث» ولأنه يتأذی البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه. (الهداية مع فتح القدير، كتاب الوصية)

قال الحصكفي في كتاب الزكاة: تجب الزكاة . . . عند قبض (مائتين مع حولان الحول بعده) أي بعد القبض (من) دين ضعيف وهو (بدل غير مال) كمهر ودية وبدل كتابة وخلع، إلا إذا كان عنده ما يضم إلی الدين الضعيف. (الدر المختار، كتاب الزكاة، باب زكاة المال)

وقال الحصكفي: (العبادة المالية) كزكاة وكفارة (تقبل النيابة) عن المكلف (مطلقا) عند القدرة والعجز ولو النائب ذميا، لأن العبرة لنية الموكل ولو عند دفع الوكيل. الدر المختار، كتاب الحج، باب الحج عن الغير)

وقال الشامی: وإن لم یوص لا یجب علی الورثۃ الإطعام؛ لأنہا عبادۃ فلا تؤدی إلا بأمرہ وإن فعلوا ذلک جاز، ویکون لہ ثوابٌ. (رد المحتار، كتاب الحج، فصل في العوارض)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4375 :

لرننگ پورٹل