لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

ادائیگی زکوٰۃ کے حوالے رہنمائی درکار ہے، میرے پاس دو پلاٹس ہیں، پہلا مئی ۲۰۱۸ء میں تیس لاکھ میں خریدا تھا، اس میں نیت یہ تھی کہ یا تو اسے بیچ کر دوسرے خالی پلاٹ کو اپنی رہائش کے لیے تعمیر کریں گے یا اسے چھوٹے بھائی کو ان کی رہائش کے لیے دے دیں گے، ان شاء اللہ۔ دوسرا پلاٹ اگست ۲۰۱۹ء میں اسی لاکھ میں خریدا تھا، جس میں نیت اسے تعمیر کرکے رہائش اختیار کرنا ہے، ان شاء اللہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں پلاٹس زکوٰۃ کے حساب کتاب میں شامل کیے جائیں گے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں پہلا پلاٹ خریدتے وقت فروخت کرنے کی نیت تھی اور سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی نیت باقی ہے، اگر واقعۃً ایسا ہی ہے تو اس کی موجودہ قیمت فروخت پر زکوۃ لازم ہوگی۔  دوسرا پلاٹ اگر واقعی رہائش کی نیت سے خریدا ہے تو اس کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

(الف) الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. (الفتاوی الهندية (1/ 179)

(ب) أما العقار الذي يسكنه صاحبه أو يكون مقراً لعمله كمحل للتجارة ومكان للصناعة، فلا زكاة فيه. (الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (3/ 1866)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4385 :

لرننگ پورٹل