لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 درج ذیل واقعے کے بارے میں رہنمائی فرمادیں کہ کیا یہ صحیح ہے؟

’’حضرت علیؓ کے گھر میں سب نے روزہ رکھا۔حضرت فاطمہؓ کے دو چھوٹے بچوں نے بھی روزہ رکھا۔مغرب کا وقت ہونے والا ہے ۔اور سب کے سب مصلہ بچھائےرو روکر دعا مانگتے ہیں۔حضرت فاطمہؓ دعا ختم کرکے گھر میں گئیں اور چار روٹیاں بنائیں، اس سے زیادہ اناج گھر میں نہیں ہے۔ پہلی روٹی اپنے شوہر حضرت علیؓ کے سامنے رکھ دی۔ دوسری روٹی اپنے بڑے بیٹے حسنؓ کے سامنے ۔  تیسری روٹی اپنے چھوٹے بیٹے حسینؓ کے سامنے ۔ اور چوتھی روٹی اپنے سامنے رکھ لی۔ مسجدنبوی میں اذان ہونے لگی۔سب نے روٹی سے روزہ کھولا۔مگر دوستوں، وہ فاطمہؓ تھی جس نے آدھی روٹی کھائی اور آدھی روٹی دوپٹے سے باندھنے لگی۔ یہ معاملہ حضرت علیؓ نے دیکھا اور کہا کہ اے فاطمہؓ تجھے بھوک نہیں لگی، ایک ہی تو روٹی ہے اُس میں سےآدھی روٹی دوپٹے میں باندھ رہی ہو؟حضرت فاطمہؓ نے کہا!! اے علیؓ ہو سکتا ہے میرے بابا جان (مُحَمَّد) کو افطاری میں کچھ نہ ملا ہو، وہ بیٹی کیسے کھائےگی جس کے باپ نے کچھ نہیں کھایا ہوگا؟فاطمہؓ دوپٹے میں روٹی باندھ کر چل پڑیں۔ اُدھر ہمارے نبیﷺ مغرب کی نماز پڑھ کر آرہے تھے ۔حضرت فاطمہؓ کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر حضور  کہتے ہیں۔ اے فاطمہؓ تم دروازے پر کیسے ، فاطمہؓ نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ مجھے اندر تو لے چلیں۔ حضرت فاطمہؓ کی آنکھ میں آنسو تھے۔ کہا جب افطار کی روٹی کھائی تو آپ کی یاد آگئی کہ  شاید آپ نے کھایا نہ ہو۔ اس لیے آدھی روٹی دوپٹے سے باندھ کر لے آئی ہوں، روٹی دیکھ کر ہمارے نبیﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہا اے فاطمہؓ اچھا کیا جو روٹی لے آئیں ورنہ چوتھی رات بھی تیرے بابا کی اسی حالت میں نکل جاتی ! دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے رونے لگتے ہیں۔۔ اللہ کے رسولﷺ نے روٹی مانگی ، فاطمہؓ نے کہا بابا جان آج اپنے ہاتھوں سے روٹی کھلاؤں گی، پھر  اپنے ہاتھ  سے کھلانے لگیں! روٹی ختم ہوگئی اور حضرت فاطمہؓ رونے لگتی ہیں۔ حضور ﷺ نے دیکھا اور کہا کہ فاطمہ اب کیوں روتی ہو؟؟  کہا ابا جان کل کیا ہوگا ؟؟ کل کون کھلانے آئے گا؟کل کیا میرے گھر میں چولہا جلے گا؟کل کیا آپ کے گھر میں چولہا جلے گا؟نبیﷺ نے اپنا پیارا ہاتھ فاطمہؓ کے سر پہ رکھا اور کہا کہ اے فاطمہؓ تو بھی صبر کرلے اور میں بھی صبر کرتا ہوں۔ ہمارے صبر سے اللہ اُمت کے گنہگاروں کے گناہ معاف کرے گا!! الله اکبر

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں مذکور واقعہ ذخیرۂ احادیث میں کہیں بھی موجود نہیں۔ البتہ دو مختلف واقعات الگ الگ مذکور ہیں:

ایک واقعہ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے الموضوعات میں نقل فرمایا ہے:

مَرِضَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَعَادَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ عُمَرُ لِعَلِيٍّ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، انْذِرْ إِنْ عافا الله عزوجل ولديك أَن تحدث لله عزوجل شُكْرًا. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ: إِن عافا الله عزوجل وَلَدَيَّ صُمْتُ لِلَّهِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ شُكْرًا، وَقَالَتْ فَاطِمَةُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقَالَتْ جَارِيَةٌ لَهُمْ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ: إِنْ عَافَا اللَّهُ سَيِّدَيَّ صُمْتُ مَعَ موالى ثَلَاثَة أَيَّام، فَأَصْبَحُوا قَدْ مَسَحَ اللَّهُ مَا بِالْغُلامَيْنِ وَهُمْ صِيَامٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ قَلِيلٌ وَلا كَثِيرٌ، فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ جَارُ بْنُ شِمْرٍ الْيَهُودِيُّ فَقَالَ: لَهُ أَسْلِفْنِي ثَلاثَةَ آصَعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَأَعْطِنِي جِزَّةَ صُوفٍ يَغْزِلُهَا لَكَ بَيْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَأَعْطَاهُ فَاحْتَمَلَهُ عَلِيٌّ تَحْتَ ثَوْبِهِ وَدَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَالَ: دُونَكِ فَاغْزِلِي هَذَا، وَقَامَتِ الْجَارِيَةُ إِلَى صَاعٍ مِنَ الشَّعِيرِ فَطَحَنَتْهُ وَعَجَنَتْهُ فَخَبَزَتْ مِنْهُ خَمْسَةَ أَقْرَاصٍ وَصَلَّى عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ فَوَضَعَ الطَّعَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَعَدُوا لِيُفْطِرُوا وَإِذَا مِسْكِينٌ بِالْبَابِ يَقُول: يَا أهل بَيْتِ مُحَمَّدٍ، مِسْكِينٌ مِنْ مَسَاكِينِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى بَابِكُمْ أَطْعِمُونِي أَطْعَمَكُمُ اللَّهُ عَلَى مَوَائِدَ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَرَفَعَ عَلِيٌّ يَدَهُ وَرَفَعَتْ فَاطِمَةُ وَالْحُسَيْنُ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ: يَا فَاطِمَةُ ذَاتَ السَّدَادِ وَالْيَقِينِ * أَمَا تَرَى الْبَائِسَ الْمِسْكِينَ قَدْ جَاءَ إِلَى الْبَابِ لَهُ حَنِينٌ * يَشْكُو إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَكِينَ حُرِّمَتِ الْجَنَّةُ عَلَى الضَّنِينِ * يَهْوَى إِلَى النَّارِ إِلَى سِجِّين فأجابته فَاطِمَة: أَمرك يَا ابْن عَمِّ سَمْعُ طَاعَهْ * مَالِي مِنْ لَوْمٍ وَلا وَضَاعَهْ أَرْجُو إِنْ أَطْعَمْتُ مِن مَجَاعَهْ فَدَفَعُوا الطَّعَامَ إِلَى الْمِسْكِينِ. الی آخرہ. (الموضوعات لابن الجوزي (1/ 390).

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ایک بار بیمار ہو گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر منت مانگی کہ کہ اگر اللہ تعالیٰ انھیں شفا عطا فرما دے تو وہ تین دن روزہ رکھیں گے، ان کی دیکھا دیکھی حضرت فاطمہ اور ان کی باندی نے بھی تین دن روزوں کی منت مانگ لی، صبح کے وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو شفا نصیب فرمائی اور تینوں حضرات نے روزہ رکھ لیا، افطاری کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کسی یہودی سے کچھ کام کے عوض جو لے کر گھر آئے اور باندی نے اسے پیس کر پانچ روٹیاں بنائیں۔ ابھی افطاری شروع کرنے ہی لگے تھے کہ ایک مسکین نے در پر صدا بلند کی اور کھانا مانگا۔ چنانچہ ساری روٹیاں اسی کو دے دیں، پھر دوسرے دن ایک یتیم نے صدا بلند کرکےکھانا مانگا تو ساری روٹیاں اسے دے دیں، اور پھر تیسرے دن ایک قیدی نے کھانا مانگا تو ساری روٹیاں اسے ہی دے دیں۔

مذکورہ  روایت کے بارے میں علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:

وَهَذَا حَدِيثٌ لَا يُشَكُّ فِي وَضْعِهِ . . . قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: أصبغ بن نباتة لَا يُسَاوِي شَيْئًا. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: حرقنا حَدِيث مُحَمَّد بن كثير. وَأما أَبُو عبد الله السَّمرقَنْدِي فَلَا يوثق بِهِ.. (الموضوعات لابن الجوزي (1/ 391)

یعنی علامہ ابن جوزی کہتے ہیں کہ اس حدیث کے من گھڑت ہونے پر کوئی شک نہیں، یحیی ابن معین نے (اس حدیث کے راوی پر جرح کرتے ہوئے) کہا: اصبغ بن نباتہ کی کوئی حیثیت نہیں (کہ اس کی حدیث بیان کی جائے)، اسی طرح (اس کے ایک اور راوی پر جرح کرتے ہوئے) احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے  فرمایا کہ ہم نے تو محمد بن کثیر کی بیان کردہ احادیث جلا ڈالی ہیں، اور (اس کا ایک اور راوی) ابو عبد اللہ سمرقندی نا قابل اعتماد شخص ہے۔

جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِكَسْرَةِ خُبْزٍ لِرَسُولِ اللهِ , فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الْكِسْرَةُ يَا فَاطِمَةُ؟ " قَالَتْ: قُرْصًا خُبَزْتُهُ وَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى آتِيكَ بِهَذِهِ الْكِسْرَةِ. فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ أَوَّلُ طَعَامٍ دَخَلَ فِي فَمِ أَبِيكَ مُنْذُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ". (شعب الإيمان (13/ 56)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی کا ایک ٹکڑا لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں نے جو روٹی پکائی تھی یہ اس کا ٹکڑا ہے،  مجھے گوارا نہ ہوا کہ آپ بھوکے رہیں اور میں اسے کھالوں، آپ علیہ السلام نے وہ ٹکڑا  (تناول فرمایا اور) فرمایا کہ تین دن کے بعد یہ پہلا لقمہ ہے جو تیرے باپ نے اپنےمنہ میں رکھا۔

ليكن اس روایت کی سند  میں عمار بن عمارۃ کو اکثر محدثین نے ضعیف فرمایا ہے۔

عَمَّارُ بْنُ عُمَارَةَ أَبُو هَاشِمٍ صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِ حَدَّثَنِي آدَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبُخَارِيَّ قَالَ: عَمَّارُ بْنُ عُمَارَةَ أَبُو هَاشِمٍ صَاحِبُ الزَّعْفَرَانِ، فِيهِ نَظَرٌ. ص324 – كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي .

أخرجه الْحَارِث بن أبي أُسَامَة فِي مُسْنده بِسَنَد ضَعِيف. ص967 – كتاب تخريج أحاديث الإحياء المغني عن حمل الأسفار.

الغرض سوال میں موجود  روایت کتب حدیث میں اس تفصیل کے ساتھ کہیں نہیں مل سکی، ممکن ہے کہ مذکورہ دونوں روایتوں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک نئی روایت بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس لیےمحدثین کے اقوال کی روشنی میں اسے حدیث مرفوع کہہ کر بیان کرنا جائز نہیں۔ البتہ جواب میں ذکر کردہ دوسری روایت  پر محض ضعف کا حکم ہے، اس لیے اسے بیان کیا جا سکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4409 :

لرننگ پورٹل