لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

ایک شخص کا گھر ہے، مالک کی زندگی میں اس کی اجازت کے ساتھ اس کے بیٹوں نے گھر میں کچھ کام کروایا، کچھ بیٹوں نے پیسے لگائے اور کچھ نے وقت لگایا، یہ سب بغیر کسی معاہدے اور لکھائی پڑھائی کےہوا، ۲۰۱۰ء میں یہ کام ہوا، ۲۰۱۲ء میں والد کا انتقال ہوگیا، اس وقت گھر کی تقسیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، اب۲۰۲۰ء میں ترکہ تقسیم کرنا ہے، لیکن وہ حساب معلوم نہیں کہ کس نے کتنا اس گھر پہ خرچ کیا، تو رہنمائی فرمائیں کہ اس گھر کو بیچ کر سات آٹھ بہن بھائیوں میں اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں بیٹوں نے اپنے والد کی اجازت سے گھر میں جو کام کیا، وہ چونکہ بغیر کسی معاہدے کے کیا، اس لئے یہ تمام بيٹوں کی طرف سے تبرع شمار ہوگا۔ اور جس بیٹے نے جو رقم یا جو محنت اس گھر کے کام میں صرف کی، وہ بھی ان کی طرف سے احسان شمار ہوگی، اور یہ گھر تمام ورثاء کے درمیان شرعی قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگا۔ رقم لگانے والوں اور اسی طرح محنت کرنے والوں كو حصہ میراث کے علاوہ اپني رقم اور محنت کے عوض کچھ مال نہیں ملے گا۔ہر ایک وارث کا حصہ معلوم کرنے کے لئے تمام ورثاء کی تعداد بتا کر دوبارہ سوال ارسال فرمائیں۔

المتبرع لا يرجع بما تبرع به علی غيره، كما لو قضی دين غيره بغير أمره(تنقيح الفتاوی الحامدية، جلد2، ص391، کتاب المدینات، مطبع: قدیمي)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4352 :

لرننگ پورٹل