لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 کیا لے پالک بچے کو والد کا نام نہ دینا گناہ ہے؟ اگرچہ والد کی وراثت میں اسے حصہ مل رہا ہو اور چچا ہی نے اسے گود لیا ہو، اسکول میں اس کے والد کا نام چچا ہی کا رکھا گیا ہو، کیا والد کا نام دینا لازمی ہے؟ اور نہ دینے کی صورت میں گناہ ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

 لے پالک بچے کی ولدیت میں اصل باپ کا نام لکھنا اور کہنا ہی ضروری ہے، اس کے علاوہ گود لینے والے شخص کا نام لگانا گناہ کبیرہ ہے، خواہ وہ شخص اس کا چاچا ہی ہو۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاءَكُمْ اَبْنَاءَكُمْ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ وَ اللّٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ يَهْدِي السَّبِيْلَ◌اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَائِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَاءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ مَوَالِيْكُمْ. (الاحزاب:4،5)

وقوله تعالی ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب ولذلك قال أصحابنا فيمن قال لعبده هو أخي لم يعتق إذا قال لم أرد به الأخوة من النسب لأن ذلك يطلق في الدين ولو قال هو ابني عتق لأن إطلاقه ممنوع إلا من جهة النسب. وروي عن النبي صلی الله عليه وسلم أنه قال من ادعی إلی غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام. (أحكام القرآن للجصاص، الأحزاب: 5)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4324 :

لرننگ پورٹل