لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

 میرے شوہر بیماری  کی وجہ سے گھر میں ہی رہتے ہیں، اپنے دو گھر کرایہ پر ہیں، ان سے ملنے والے کرایہ اور ٹیوشن سے ملنے والے پیسوں سے میں گھر چلاتی ہوں، میں خود صاحب نصاب نہیں، میرے شوہر نے حج کیا ہوا، لیکن میں نے نہیں کیا، اب دل چاہتا ہے کہ حج کروں تو کیا اس کےلیے میں اپنا ایک گھر بیچ کر حج کروں یا یہ کہ بغیر حج کیے رہوں، اس میں کوئی گناہ تو نہیں ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکوہ دو نوں گھر آپ کے شوہر کے ہیں تو ان کی اجازت کے بغیر گھر فروخت کرکے حج کےلیے جانا جائز نہیں، اور اگر دونوں مکان آپ کی ذاتی ملکیت ہیں تو دیکھا جائے ، چونکہ آپ کا گزارہ مکان کے کرایہ پر ہے، اس لیے ایک مکان فروخت ہونے کی صورت میں دوسرے مکان کے کرایہ سے آپ کا گزر بسر ہوسکتا ہو تو آپ پر حج فرض ہے، آپ کے ذمہ لازم ہے ایک مکان فروخت کرکے حج کریں بشرطیکہ سفر پہ ساتھ جانے کےلیے محرم بھی دستیاب ہو۔

وإن كان صاحب ضيعة إن كان له من الضياع ما لو باع مقدار ما يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده ويبقی له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقي يفترض عليه الحج، وإلا فلا، وإن كان حراثا أكارا فملك ما لا يكفي الزاد والراحلة ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده من خروجه إلی رجوعه ويبقی له آلات الحراثين من البقر ونحو ذلك كان عليه الحج، وإلا فلا كذا في فتاوی قاضي خان. (الفتاوی الهندية (1/ 218)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4429 :

لرننگ پورٹل