لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 شوال کے چھ روزوں کا کیا حکم ہے؟ ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کی احادیث کی صحت کا تین بڑے اماموں نے (امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام بخاری رحمہم اللہ نے) انکار کیا ہے، اسی طرح محقق علی الاطلاق علامہ ابن ہمام اور علامہ ابن نجیم شارح کنز الدقائق رحمہما اللہ نے ان روزوں کو ناجائز روزوں میں شمار کیا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

شوال کے چھ روزے مستحب ہیں ان کا رکھنا باعث ثواب ہے اور ان کو مکروہ سمجھنا درست نہیں۔

عن ابی ایوب عن رسول اﷲﷺقال: من صام رمضان ثم اتبعہ ستامن شوال فذاک صیام الدھر‘‘. (رواہ الجماعۃ الاالبخاری والنسائی) ترجمہ: ’’ جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزے رکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے‘‘۔

اس حدیث کوامام مسلم ،ابوداؤد،ترمذی اورابن ماجہ سب نے صحیح سندکے ساتھ ذکرکیاہے، فقہ حنفی کی معتبرکتابوں نے بھی ان روزوں کومستحب اورسنت قراردیاہے،چنانچہ  ’’الدر المختار میں ہے: (وندب تفریق صوم الست من شوال ) ولایکرہ التتابع علی المختار خلافا للثانی حاوی والاتباع المکروہ ان یصوم الفطروخمسۃ بعدہ فلوافطرالفطرلم یکرہ بل یستحب ویسن۔ ابن کمال‘‘ 

علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے بھی’’الدرالمختار‘‘کی مذکورہ عبارت کی تشریح کرتے ہوئے مختلف کتابوں کے حوالہ سے حنفی مذہب میں راجح اورمختارقول کے مطابق ان روزوں کوثابت کردیاہے۔ اوراخیرمیں علامہ قاسم ابن قطلوبغاکے ایک رسالہ کاحوالہ دیتے ہوئے جن لوگوں نے ان روزوںکی مطلقاً کراھت کوامام ابوحنیفہؒ کی طرف منسوب کیاہے ان لوگوں کے دعوے کوجھوٹااوربلادلیل قراردیاہے۔

وتمام ذلک فی رسالۃ’’ تحریرالاقوال فی صوم الست من شوال‘‘ للعلامۃ قاسم وقدردفیھاعلی مافی منظومۃ التبانی وشرحھامن عزوہ الکراھۃ مطلقاالی ابی حنیفۃ وانہ الاصح بانہ علی غیرروایۃ الاصول وانہ صحح مالم یسبقہ احد الی تصحیحہ وانہ صحح الضعیف وعمد الی تعطیل مافیہ الثواب الجزیل بدعوی کاذبۃ بلادلیل ثم ساق کثیرامن نصوص کتب المذھب فراجعھافافھم 

سوال میں جتنی کتابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ان تمام کتابوں میں کراہت کے قول کو نقل فرما کر عامۃ المشائخ کے جواز کا قول بھی ذکر کیا گیا ہے اور جو کراہت ہے اس کے بارے میں علامہ کاسانی فرماتے ہیں کہ کراہت صرف اس صورت میں ہے جبکہ عید کے دن کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے اور عید کے دن روزہ رکھ کر باقی پانچ دن روزہ رکھا جائے لیکن اگر عید کے دن روزہ نہ رکھا جائے تو اس میں کراہت بھی نہیں۔

’’والاتباع المکروہ ھوان یصوم یوم الفطرویصوم بعدہ خمسۃ ایام فامااذا افطریوم العیدثم صام بعدہ ستۃ ایام فلیس بمکروہ بل ھومستحب وسنۃ‘

امام مالک رحمہ اللہ ان روزوں کو ناجائز یا مکروہ نہیں فرماتے بلکہ ان روزوں کو فرض سمجھنے سے منع فرماتے ہیں چنانچہ فقہ مالکی کی مشہور کتاب الاستذکار میں ہے: فان مالکالایکرہ ذلک ان شاء اﷲ،لان الصوم جنۃ وفضلہ معلوم لمن ردطعامہ وشرابہ وشھوتہ ﷲ تعالٰی وھوعمل بروخیر،وقد قال اﷲ تعالیٰ عزوجل ’’وافعلوا الخیر‘‘(سورۃ الحج ۷۷)ومالک لایجھل شیئامن ھذاولم یکرہ من ذلک الاماخافہ علی اھل الجھالۃ والجفاء اذااستمرذلک وخشی ان یعدوہ من فرائض الصیام مضافاالی رمضان، ومااظن مالکاجھل الحدیث(كتاب الإستذكار) ترجمہ:’’امام مالک کے ہاں یہ روزے مکروہ نہیں ہوں گے ان شاءاللہ کیونکہ روزہ ڈھال ہے اور اللہ تعالی کے لئے کھانے پینے اور اپنی شہوات کو چھوڑ دینے کی فضیلت معلوم ہے اور یہ خیر اور نیکی کا کام ہے اور امام مالک رحمہ اللہ ان تمام چیزوں سے ناواقف نہیں تھے اور انہوں نے ان روزوں کو ان فضائل کی بنیاد پر مکروہ نہیں کہا بلکہ ناواقف لوگوں کے خوف سے کہ وہ ان کی متابعت کر کے ان کو رمضان کے روزوں میں شمار نہ کرنے لگیں‘‘۔

اور امام بخاری رحمہ اللہ کا ان روزوں کی فضیلت پر مشتمل حدیث کا اپنی صحیح میں ذکر نہ کرنا اس سے انکار پر دلالت نہیں کرتا بلکہ ممکن ہے کہ ان کی متعین کردہ شرائط کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے اس کہ تخریج نہ فرمائی ہو کیونکہ گزشتہ سطور میں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔لہذا شوال کے ان روزوں کو مطلقا مکروہ سمجھنا درست نہیں، جبکہ سلف صالحین کے ہاں ان روزوں کے رکھنے کا معمول بھی چلا آرہا ہے۔ اس لیے صحت وقدرت ہو تو ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4439 :

لرننگ پورٹل