لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 میرے بیٹے نے عمرہ کیا تھا تو داڑھی رکھ لی تھی، پھر میں نے اسے داڑھی ہٹانے نہیں دی۔ اب اُس نے آہستہ آہستہ داڑھی کو ماڈرن کردیا ہے۔ میرے شوہر کہتے ہیں کہ یا تو صحیح داڑھی رکھو ورنہ اسے بھی ہٹادو۔ میں اس حق میں نہیں ہوں، میں نے داڑھی ہٹانے سے منع کیا ہے اس سوچ سے کہ اگر اس نے داڑھی ہٹادی تو پھر نہیں رکھے گا۔ بیٹا کہتا ہے کہ داڑھی سنت ہے فرض نہیں ہے۔ ویسے میرا بیٹا فرماں بردار ہے میری بات مانتا ہے۔ میرے کہنے پر اس نے بچے کی سالگرہ نہیں منائی بلکہ یتیم خانے میں صدقہ دےدیا۔ آپ اس کے لیے دعا کریں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

نبی اکرم ﷺ نے مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ آپؐ کی  حیاتِ مبارکہ سے ایک مرتبہ بھی داڑھی منڈوانا ثابت نہیں اور نہ ہی کسی صحابی ؓ سے۔موجودہ دور میں بعض نادان اس بنیاد پر داڑھی اور دیگر سنتوں کا التزام ضروری نہیں سمجھتے کہ ان کے خیال میں نبی اکرم ﷺ کی ان عادات کا تعلق آپﷺ کےاپنے شخصی مزاج، قومی طرزِ معاشرت اور اپنے عہد کے تمدن سے تھا۔ لیکن یہ طرزِ استدلال قرآن وحدیث کی روشنی میں درست نہیں۔ اوّلاً تو قرآن نے اتباع رسول کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:{وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} ترجمہ:’’اور رسولؐ تمہیں جس بات کا حکم دیں اس پر کاربند ہوجاؤ اور جس چیز سے روکیں اس سے رُک جاؤ‘‘

 اور اتباع کا دائرہ آپﷺ کی تمام سنتوں کا احاطہ کرتا ہے چاہےاُن کا تعلق روزمرہ زندگی کے معمولات سے ہو یا دین کے عظیم مقاصد سے،سوائے اُن امور کے جو نبی اکرم ﷺکا خاصہ تھے جیسے چار سے زیادہ شادیاں وغیرہ۔ ثانیاً  ایسی تمام سنتیں جنہیں رسول اللہ نے کبھی ترک نہ فرمایا ہو اور امت کو انہیں اختیار کرنے کا حکم بھی دیا ہو، ان کا تعلق آنحضورﷺ کے اپنے معاشرے کے رسم ورواج اور عہد کے تمدن تک محدود نہیں رہتا،  بلکہ یہ دین میں سنن مؤکدہ کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں، جن پر عمل ہر امتی کے لیے لازم ہے اور جن کا ترک کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔اس بارے میں ذخیرۂ احادیث میں ایک دو نہیں، متعدد احادیث نبویہ ملتی ہیں جن میں آنحضور ﷺ نے انتہائی تاکیدی انداز میں داڑھی رکھنے اور بڑھانے کا حکم دیا ہے، لہٰذا شرعاً اس کے واجب ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ ذیل میں چند احادیث نقل کی جارہی ہیں:

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  انْهَكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَی (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب اعفاء اللحیۃ) ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر ؓ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا   مونچھوں کو خوب کم کرو اور داڑھیوں کو خوب بڑھاؤ‘‘۔ 

عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار) ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا   مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو خوب بڑھاؤ اور  مونچھوں کو خوب باریک کرو ‘‘۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَأَرْخُوا اللِّحَی خَالِفُوا الْمَجُوسَ(صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ) ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ؐ اللہ نے فرمایا   مونچھوں کو کترنے میں مبالغہ کرو، اور داڑھیوں کو خوب زیادہ کرو، مجوسیوں کی مخالفت اختیار کرو‘‘۔

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرٌ مِنْ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ (صحیح مسلم، کتاب الطہارہ، باب خصال الفطر) ترجمہ:’’حضرت عائشہ  ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں جن میں سے ایک  مونچھیں کٹوانا اور دوسری  داڑھی بڑھاناہے‘‘۔

 داڑھی  منڈوانا مشرکین اور مجوسیوں  کا شیوہ ہے۔

 حدیث میں ہے: عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی لبس الشھرۃ)  ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمر ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو (انجام کار) وہ انہی میں سے ہوگا‘‘۔

 داڑھی منڈوانے سے عورتوں کی مشابہت لازم آتی ہے۔ 

حدیث میں ہے: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنْ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب المتشبھین بالنساء۔۔۔) ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے لعنت بھیجی ہے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر اور مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر ‘‘۔

ذیل میں  داڑھی کے حوالے سے چند مفتیانِ کرام کے فتاویٰ  درج کیے جارہے ہیں:

 حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحبؒ فرماتے ہیں:’’داڑھی رکھنا واجب اور قبضہ (مٹھی) سے زائد کٹانا حرام ہے‘‘۔ (امداد الفتاویٰ، جلد 4،  باب بالوں کے حلق و قصروخضاب اور ختنہ وغیرہ کے احکام)

 حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دھلوی صاحبؒ فرماتے ہیں:’’داڑھی منڈانے والا یا اتنی کتروانے والاکہ جس پر داڑھی بڑھانے کا عرفاً اطلاق نہ ہوسکے گناہ گار ہے کیونکہ وہ امر اعفوا (داڑھی بڑھاؤ) کی خلاف ورزی کرنے والا ہے جو اتفاقاً وجوب کے لیے ہے‘‘۔ (کفایت المفتی، جلد 9،  باب کتاب الحظر و الاباحۃ)

 حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں:’’باجماع ِ امت داڑھی منڈانا حرام ہے، اسی طرح ایک قبضہ (مٹھی) سے کم ہونے کی صورت میں کتروانا بھی حرام ہے، ائمہ اربعہ حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ کا اس پر اتفاق ہے‘‘۔ (جواھر الفقہ، جلد 7، باب داڑھی کے احکام)

پھر داڑھی کو جدید دور کے فیشن کے مطابق کٹوانا اور اسے سنت سمجھنا بھی سنت رسول کے ساتھ مذاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضروری ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو متاثر کن طریقے سے سنت رسول کے مطابق داڑھی رکھنے پر  آمادہ کریں۔ اور اپنی اور اپنے اہل خانہ کی ہدایت کے لیے دن رات اللہ کے حضور التجا کرتی رہیں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر2837 :

لرننگ پورٹل