لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

سوال:السلام علیکم ! میں قرآن کریم میں تنسیخ شدہ آیات کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ کیا ایسی کوئی آیات ہیں؟ اگر ہیں تو کونسی ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

نسخ لغت میں کسی چیز کو مٹانا، تبدیل کرنا، ایک مقام سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرنے کا نام ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن القرطبی،البقرہ، تحت الایۃ:106)

کتاب وسنت کی اصطلاح میں نسخ کا مفہوم یہ ہے کہ کسی حکم کی انتہائے مدت بیان کرکے اس کی جگہ دوسرا حکم جاری کر دیا جائے۔ یہ دوسرا حکم خواہ سابقہ حکم کے اختتام کے متعلق ہو ،یا کسی نئے حکم کے جاری کرنے کی اطلاع کے متعلق ہو ۔ (روح المعانی، البقرة تحت آیہ رقم:106) قرآن کریم میں نسخ کا عمل کیوں جاری ہوا اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔ کیونکہ دنیا کا ہر فرماں روا اور آقا اپنے احکامات میں تبدیلی لاتار ہتا ہے، لیکن اس تبدیلی کی بنیاد جہالت اور بے خبری ہوتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اس کا پہلا فیصلہ ہی حرف غلط بن کر سامنے آتا ہے، جس میں تغیّر وتبدیلی کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔ بعض اوقات وہ فیصلہ ہر لحاظ سے موزوں اور مناسب حال ہوتا ہے ،لیکن مرور ایام کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت بھی ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور زمانہ حال کی مناسبت سے اس میں تبدیلی ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ احکام خداوندی میں یہ دونوں صورتیں مفقود ہیں، کیوں کہ اس کا مبدأ جہالت ہے اور الله تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ حکم دینے والا پہلے سے یہ فیصلہ کر چکا ہو کہ یہ حکم فلاں مدت تک ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ فلاں مدت میں حالات کا رخ یہ ہو گا، اس وقت میرا دوسرا حکم جاری ہو گا، جب مدّت ختم ہوئی ،یا وہ حالات آئے ،تو اس نے اپنے سابقہ فیصلے اور علم کی وجہ سے نیا حکم جاری کیا، اس صورت میں جہالت وغیرہ کاکوئی شبہ پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ الله تعالیٰ کی حکمت کاملہ کو ظاہر کرتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے اصول السرخسی اور فواتح الرحموت کا مطالعہ فرمائیں)۔

احکام الہیہ میں نسخ کی یہی صورت ہوتی ہے ،اس کی بنا جہالت نہیں، حکمت ہوتی ہے، الله تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت شفیق ہیں؛ اس لیے مختلف قوموں او رمختلف حالات کے پیش نظر اپنے احکام میں ترمیم کرتے رہے ۔اس کی مثال اس ڈاکٹر اورحکیم کی سی ہے جو مریض کی حالت بدلنے کے ساتھ ساتھ دوا بھی بدلتا رہتا ہے ،کوئی بھی عقل مند انسان دوا کے ردّ وبدل کو ڈاکٹر کی جہالت اور بے وقوفی سے تعبیر نہیں کرتا، بلکہ ایسے معالج کو اپنے فن کا ماہر شمار کیا جاتا ہے ،جو مریض کی بدلتی کیفیت پر پوری نظر رکھتا ہو، اگر ڈاکٹر پورے علاج کا نظام اور دوا ایک ہی دن بتا دے کہ فلاں دوائی فلاں چیز کے ساتھ فلاں وقت کھاؤاور دو دن بعد فلاں دوائی استعمال کرو ،اس سے مریض پر خواہ مخواہ کا بوجھ پڑتا، بلکہ غلط فہمی سے عملی خلل کا بھی اندیشہ رہتا، اس لیے کوئی معالج اپنے مریض کو علاج کی تفصیلات سے قبل از وقت آگاہ نہیں کرتا۔ اس تعریف کے مطابق نسخ یہ ہے کہ قرآن مجید میں موجود کسی ایک حکم کے مقابل دوسرا حکم لایا جائے، تاکہ سابقہ حکم کی مدت کا ختم ہو جانا معلوم ہو جائے۔ جمہور علمائے اسلام کے نزدیک قرآن کریم میں بعض آیات کا منسوخ ہونا امرِ حق ہے۔

البتہ نسخ کی تعریف میں متقدمین و متاخرین کے درمیان فرق کی وجہ سے منسوخ شدہ آیات کی تعیین و تعداد میں بھی اختلاف واقع ہوا ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی تعریف کے مطابق نسخ یہ ہے کہ قرآن مجید میں موجود کسی ایک حکم کے مقابل دوسرا حکم لایا جائے، تاکہ سابقہ حکم کی مدت کا ختم ہوجانا معلوم ہوجائے۔ اس تعریف کے مطابق امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے قرآن مجید میں پانچ آیات کا منسوخ ہونا بیان فرمایا ہے۔

النَّسْخُ مِمَّا خَصَّ اللَّهُ بِهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ لِحِكَمٍ مِنْهَا التَّيْسِيرُ وَقَدْ أَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى جَوَازِهِ وَأَنْكَرَهُ الْيَهُودُ ظَنًّا مِنْهُمْ أَنَّهُ بَدَاءٌ كَالَّذِي يَرَى الرَّأْيَ ثُمَّ يَبْدُو لَهُ وَهُوَ بَاطِلٌ لِأَنَّهُ بَيَانُ مُدَّةِ الْحُكْمِ كَالْإِحْيَاءِ بَعْدَ الْإِمَاتَةِ وَعَكْسِهِ وَالْمَرَضِ بَعْدَ الصِّحَّةِ وَعَكْسِهِ وَالْفَقْرِ بَعْدَ الْغِنَى وَعَكْسِهِ وَذَلِكَ لَا يَكُونُ بَدَاءً فكذا الْأَمْرُ وَالنَّهْي. (الإتقان في علوم القرآن، 3/ 67)

قال السيوطي موافقاً لابن العربي: فهذه إحدى وعشرون آية منسوخة على خلاف في بعضها، ولا يصح دعوى النسخ في غيرها والأصح في آية الاستيذان والقسمة، الإحكام وعدم النسخ، فصارت تسعة عشر. قلت: ما حررته لا يتعين النسخ إلا في خمس آيات. (الفوز الكبير في أصول التفسير، ص 93)

تفصیل درج ذیل ہے:

آیت منسوخہ

ناسخ

مختصر توضیح

{كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ (180)} [البقرة: 180]

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}. [النساء: 11]

پہلے اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے لیے مالی وصیت کرنا فرض تھا، بعد میں اللہ جل شانہ نے تمام ورثاء کے حصے از خود مقرر فرما کر اس حکم کو منسوخ فرما دیا۔

{وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} [البقرة: 240]

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}. [النساء: 11]

پہلے متوفی کے لیے اپنی زوجہ کو ایک سال اپنے ہی گھر میں ٹھہرانے کی وصیت کرنا لازمی تھا، بعد میں تمام ورثاء کے کل حصے بیان فرما کر اس وصیت کی فرضیت کو منسوخ فرما دیا گیا۔

{إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ} [الأنفال: 65]

{الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ} [الأنفال: 66]

پہلے حکم میں مسلمانوں پر لازم کیا گیا تھا خود سے دس گنا زیادہ کفار سے مقابلے میں ثابت قدم رہ کر مقابلہ کریں، بعد میں تخفیف فرماتے ہوئے دوگنا کفار سے مقابلے میں ثابت قدمی فرض کی گئی۔

{يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنّ} [الأحزاب: 50]

{لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبًا} [الأحزاب: 52]

پہلے رسول اللہ ﷺ کے لیے لا محدود ازدواج کی اجازت تھی، بعد میں صرف موجودہ بیویوں پر اکتفاء کا حکم فرمایا گیا۔

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيم} [المجادلة: 12]

{أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} [المجادلة: 13]

پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بارگاہ رسالت میں حاضری سے قبل صدقہ فرض کیا گیا بعد میں یہ فرضیت منسوخ کر دی گئی۔

فمن البقرة، قوله – تعالى -: {كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} الآية، منسوخة، قبل بآية المواريث، وقيل: بحديث لا وصة لوارث، وقيل بالإجماع، حكاه ابن العربي. قلت: بل هي منسوخة بآية {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ} إلخ وحديث "لا وصية لوارث” مبين للنسخ.

وقوله – تعالى -: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ} – إلى قوله – {إِلَى الْحَوْلِ} منسوخة بالميراث، والسكنى باقية عند قوم. منسوخة عند آخرين بحديث: "لا سكنى إلخ”. قلت: هي كما قال: منسوخة عند جمهور المفسرين

قوله – تعالى -: {إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ} الآية منسوخة بالآية بعدها. قلت: كما قال: مسنوخة.

قوله – تعالى – {لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ} الآية، منسوخة بقوله – تعالى -: {إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ} الآية. قلت: يحتمل أن يكون الناسخ مقدماً في التلاوة وهو الأظهر عندي.

قوله – تعالى -: {إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا} الآية. منسوخة بالآية بعدها. (الفوز الکبیر في أصول التفسير، 85- 92)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر 3092 :

لرننگ پورٹل