لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 جمعہ کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت سنتیں پڑھنا کسی ٹھوس دلیل سے ثابت ہیں ؟ـ اس پر صحیح دلائل ہیں یا نہیں؟ اہل حدیث اس کو بدعت کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کو بدعت کہا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

جمعہ کی نماز سے پہلے سنت پڑھنا احادیث صحیحہ کثیرہ سے ثابت ہے۔

حدیث شریف میں ہے: عن نافع قَالَ:كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُطِيلُ الصَّلاَةَ قَبْلَ الْجُمُعَةِ، وُيصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعتَيْنِ فِي بَيْتِهِ. وُيحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ – صلی الله عليه وسلم – كَانَ يَفْعَلُ ذلِكَ. (موارد الظمآن إلی زوائد ابن حبان، كتاب المواقيت، باب الصلاة قبل الجمعة) ترجمہ:’’حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمعہ سے پہلے نماز کو طویل کیا کرتے تھے اور اس کے بعد دو رکعت گھر میں پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے، حضور اکرمﷺ ایسا ہی کرتے تھے‘‘۔

یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے۔

معجم الاوسط میں ہے:عن علي قال: «كان رسول الله صلی الله عليه وسلم يصلي قبل الجمعة أربعا، وبعدها أربعا، يجعل التسليم في آخرهن ركعة». (المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد) ترجمہ:’’حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جمعے سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور چار رکعات جمعے کے بعد پڑھا کرتے تھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرتے تھے‘‘۔

امام ترمذیؒ نے باب قائم کیا باب ما جاء في الصلاة قبل الجمعة وبعدها (جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد نماز کا بیان) اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل بیان فرمایا: وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الجُمُعَةِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا». ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ جمعے سے پہلے اور جمعے کے بعد چار رکعات پڑھا کرتے تھے‘‘۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جمعہ سے پہلے سنت پڑھنے کو بدعت کہا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو حضرت بلال اذان کہنا شروع کر دیتے اور جب اذان مکمل ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تو اس دوران کوئی نماز پڑھنے کا وقت نہیں اسی طرح ابن تیمیہؒ نے جمعہ کو عید پر قیاس کیا ہے کہ جس طرح عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں اسی طرح جمعے کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں۔

علامہ ابن تیمیہؒ کے اس استدلال کے بارے میں صاحب بحر الرائق نے فرمایا کہ یہ استدلال مردود ہے کیونکہ رسول اللہﷺ زوال کے بعد مسجد میں تشریف لاتے تھے تو اس میں قوی امکان ہے اس بات کا هےکہ رسول اللہﷺ چار رکعات پڑھ کر تشریف لاتے ہوں کیونکہ دیگر صحیح احادیث سے رسول اللہ ﷺ کا زوال کے بعد چار رکعات پڑھنا ثابت ہے ۔

اسی طرح حضرت مولانا سید یوسف بنوری رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما جیسے صحابہ سے جمعے سے پہلے نماز پڑھنا ثابت ہے تو یہ بات بہت بعید ہے کہ یہ حضرات کسی ایسے عمل کو اپنا معمول بنا لیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحۃ یا اشارۃ ثابت نہ ہو ۔نیز فرماتے ہیں کہ ابن تیمیہؒ کا جمعے کی نماز کو عید کی نماز پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ جمعہ سے پہلے نماز پر اجماع ہے اور عید کی نماز سے پہلے نفل نماز نہ ہو نے پر  بھی تقریبا اجماع  ہے ۔لهذا معلوم هوا كه جمعه سے پهلے نماز پڑھنا ثابت هے اور اس كو بدعت كهنا درست نهيں۔

وقد تعلق بما ذكرنا بعض من نفی أن للجمعة سنة فإنه من المعلوم «أنه كان – عليه السلام – إذا رقي المنبر أخذ بلال في الأذان فإذا أكمله أخذ – عليه السلام – في الخطبة» فمتی كانوا يصلون السنة ومن ظن أنهم إذا فرغ من الأذان قاموا فركعوا فهو من أجهل الناس وهذا مدفوع بأن خروجه – عليه السلام – كان بعد الزوال بالضرورة فيجوز كونه بعد ما كان يصلي الأربع ويجب الحكم بوقوع هذا المجوز لما قدمنا من عموم أنه «كان – عليه السلام – يصلي إذا زالت الشمس أربعا» ، وكذا يجب في حقهم؛ لأنهم أيضا يعلمون الزوال كالمؤذن بل ربما يعلمونه بدخول الوقت ليؤذن اهـ. (البحر الرائق، باب صلاة الجمعة، السعي وترك البيع بالأذان الأول للجمعة)

ويكفي ان يقال في جوابه ان الصحابة مثل عبد الله بن مسعود وابن عمر وغيرهما لما كانوا يصلون قبلها اربعا او زائدا او ناقصا كيف استمروا علی عمل لم تكن فيه اسوة لهم عنه صلي الله عليه وسلم قولا او فعلا ، او لم يكن لهم عهد منه صلي الله عليه وسلم صراحة او اشارة…. وقياسها علی العيد فی عدم السنة قبلهما قياس مع وجود الفارق ، فان جواز التطوع قبل الجمعة كلمة اجماع ، كما ان عدم التطوع قبل العيد قريب من الاجماع، فافترقا. (معارف السنن، كتاب الصلاة، باب فی الصلاة قبل الجمعة و بعدها)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4691 :

لرننگ پورٹل