لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

الاذان جزم والاقامة جزم والی حدیث کیا ضعیف ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

’’الاذان جزم والاقامة جزم‘‘ اس روايت كے بارے ميں علامہ سخاوی فرماتے ہیں کہ یہ روایت مرفوع نہیں ہے،یہ صرف حضرت ابراہیم نخعیؒ کا قول ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ حضور ﷺ سے ’’التکبیر جزم والسلام جزم‘‘ روایت کیا جاتا ہے، جبکہ اس لفظ سے کوئی مرفوع روایت ثابت نہیں، بلکہ یہ صرف حضرت ابراہیم نخعی کا قول ہے، جس کے ہم معنی روایات امام ترمذی، امام ابوداؤد اور امام حاکم نے ذکر فرمائی ہیں۔ امام دار قطنی نے بھی علل میں یہی فرمایا کہ یہ روایت موقوف ہے مرفوع نہیں۔ 

حَدِيثُ: رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جزم" ولا أَصْلَ لَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَإِنَّمَا هُوَ قَوْلُ إبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ حَكَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ وَمَعْنَاهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَأَبِي دَاوُد وَالْحَاكِمِ: مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ بِلَفْظِ: "حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ" وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي الْعِلَلِ الصَّوَابُ مَوْقُوفٌ وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ اُخْتُلِفَ فِيهِ. (التلخيص الحبير، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة)

سنن ترمذی میں امام ترمذیؒ نے ایک روایت نقل فرمائی:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ (سنن الترمذی، ابواب الصلاة، باب ما جاء أن حذف السلام سنة) ترجمہ:’’ سلام کو بغیر کھینچے اور وقف کے ساتھ کہنا سنت ہے‘‘۔

اس روایت کے نقل کرنےکے بعد ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ذکر فرمایا: وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «التَّكْبِيرُ جَزْمٌ، وَالسَّلَامُ جَزْمٌ۔ پھر علامہ سخاوی رحمہ اللہ نے سنن سعید بن منصور کے حوالے سے حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول مزید اضافے کے ساتھ بیان فرمایا ومن جهته رواه سعيد بن منصور في سننه، بزيادة: والقراءة جزم، والأذان جزم، وفي لفظ عنه: كانوا يجزمون التكبير. (الباب الاول، حرف التاء المثناة)

(بتربيع تكبير في ابتدائه) وعن الثاني اثنتين وبفتح راء أكبر والعوام يضمونها روضة، لكن في الطلبة معنی قوله – عليه الصلاة والسلام – «الأذان جزم» أي مقطوع المد، فلا تقول آلله أكبر؛ لأنه استفهام وإنه لحن شرعي، أو مقطوع حركة الآخر للوقف، فلا يقف بالرفع؛ لأنه لحن لغوي فتاوی الصيرفية من الباب السادس والثلاثين. (الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الاذان)

علامہ شامی رحمہ اللہ نے بھی اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے۔ 

ولما في الأحاديث المشتهرة للجراحي أنه سئل السيوطي عن هذا الحديث، فقال: هو غير ثابت كما قال الحافظ ابن حجر، وإنما هو من قول إبراهيم النخعي، ومعناه كما قال جماعة منهم الرافعي وابن الأثير أنه لا يمد. (رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الاذان)

لہذا اس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے حدیث مرفوع کے طور پر بیان کرنا درست نہیں، بلکہ حضرت ابراہیم نخعیؒ کا قول ہے اور ہمارے فقہاء نے اس سے اس بات پر استدلال بھی کیا ہےکہ اذان میں تکبیرات پر جزم کرنا بہتر ہے، اللہ اکبر کی را پر ضمہ پڑھنا غلط ہے، یا تو اس پر وقف کرکے ساکن پڑھا جائے یا پھر ملاکر پڑھنے کی صورت میں راء پر فتحہ پڑھا جائے۔ اور اس قول کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ تکبیرات کو کھینچا نہ جائے۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4281 :

لرننگ پورٹل