لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 براہ مہربانی مندرجہ ذیل پوسٹ میں موجود سوال وجواب کی بابت رہنمائی فرمادیں کہ کیا درست ہے؟اور یہ بھی بتادیں کہ صبح اٹھنے کے کتنی دیر بعد پانی پیا جاسکتا ہے، کیوں کہ جو شخص روزے رکھتا ہے وہ تو پانی پیے بغیر روزہ نہیں رکھ سکتا۔ برائے مہربانی مکمل رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیراً

پوسٹ:

’’سوال:نہار منہ پانی پینا کیسا ہے؟

جواب:نہار منہ پانی پینا جائز ہے البتہ بعض احادیث مبارکہ میں نہار منہ پانی پینے کو صحت کےلیےنقصان دہ قرار دیا گیا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ نہار منہ پانی نہ پیا جائے لیکن اگر کوئی نہار منہ پانی پیتا ہے تو گنہگار نہیں ہوگا۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : "مَنْ شَرِبَ الْمَاءَ عَلَی الرِّیْقِ ذهبَ نِصْفُ قُوَّته" (کنزالعمال، جلد 16، صفحه 35، مطبوعه ملتان، تاریخ دمشق، جلد24، صفحه 456، حدیث : 2957) ترجمہ:   جس نے نہار منہ پانی پیا اس کی آدھی طاقت چلی گئی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من شرب الماء علی الریق انتقصت قوته" (المعجم الاوسط للطبرانی جلد، 5، صفحه 51، حدیث نمبر4646 دارالحرمین) جس نے نہار منہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ومن شرب الماء علی الریق انتقضت قوته" (المعجم الاوسط، جلد 6، صفحه 334، حدیث: 6557 دارالحرمین) یعنی اور جس نے نہار منہ پانی پیا اس کی قوت بیکار ہوگی۔ مرقاۃ المفاتح میں ہے: "ان اکثر الامم لا سیما العرب یرون شرب الماء علی الریق بالغا فی المضرة". (مرقاۃ المفاتیح کتاب الاطعمة، جلد 7، صفحه 2706 حدیث4194 دارالفکر) بیشک اکثر امتیں خصوصاً عرب لوگ گمان کرتے ہیں کہ نہار منہ پانی پینا نقصان دہ ہے۔ حکماء کہتے ہیں : "ثلاثة اشیاء تورث الهزال: شرب الماء علی الریق والنوم علی غیر وطاء وکثرۃ الکلام برفع الصوت" (المجالسة وجواهر العلم، جلد6، صفحه 39 ) یعنی تین چیزیں کمزوری و دبلاپن پیدا کرتی ہیں : نہارمنہ پانی پینا, سخت و ناہموار زمین پر سونا, بلند آواز سے لمبی گفتگو کرنا۔  واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم‘‘

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال ميں مذکور پہلی روایت کنز العمال میں ابن عساکر کے حوالے سے نقل کی گئی ہے اور خود ابن عساکر اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ روایت متن اور سند دونوں کے اعتبار سے غریب ہے۔ 

ومنه ما رواه ابن عساكر وقال: غريب الإسناد والمتن عن أبي هريرة بلفظ: "من كثر ضحكه استخف بحقه، ومن كثرت دعابته ذهبت جلالته، ومن كثر مزاحه ذهب وقاره، ومن شرب الماء علی الريق ذهب بنصف قوته، ومن كثر كلامه كثرت خطاياه، ومن كثرت خطاياه فالنار أولی به". (کشف الخفاء)

المعجم الاوسط للطبرانی میں ایک روایت ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے: عن ابی سعيد الخدري عن النبی صلی الله عليه و سلم قال من شرب الماء علی الريق انتقصت قوته (المعجم الاوسط، جزء5، من اسمه عبید الله) ترجمہ:’’حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا جو شخص نہار منہ پانی پیے اس کی قوت کم ہوجاتی ہے۔‘‘

یہ حدیث سند کے اعتبار سے نہایت ضعیف ہے۔امام طبرانی فرماتے ہیں: 

لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ إِلَّا ابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، تَفَرَّدَ بِهَا: أَبُو أَسْلِمَ " المعجم الأوسط (5/ 52)

ان احادیث کو زید بن اسلم سے صرف ان کے بیٹے عبد الرحمن نے روایت کیا ہے ان احادیث میں ابو اسلم متفرد ہیں۔

علامہ ہیثمی ؒ فرماتے ہیں: رواه الطبراني في الأوسط وفيه محمد بن مخلد الرعيني وهو ضعيف(مجمع الزوائد، کتاب الطب، باب شرب الماء علی الريق) ترجمہ:’’اس حدیث کو طبرانی نے اپنی کتاب اوسط میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مخلد الرعینی ہے جو کہ ضعیف ہے۔‘‘

کشف الخفاء میں اسمعیل میں محمد عجلونی نے اس کی سند کو کمزور کہا ہے ۔

كشف الخفاء (2/ 444)

وأصله عند الطبراني عن أبي سعيد الخدري: "من شرب الماء علی الريق انتقصت قوته"، وأخرجه في حديث طويل عن أبي هريرة -رضي الله تعالی عنه- وكلاهما سنده ضعيف.

اسی طرح سوال میں مذکور تیسری روایت کو امام طبرانی نے ذکر کرنے کے بعد فرمایا: لَا يُرْوَی هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْأَوَّلِ الْمُعَلِّمُ " اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ سے صرف اسی سند سے روایت کیا جاتا ہے اور اس میں عبد الاول المعلم متفرد ہیں۔

علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. اس روایت کی سند میں ایسے کئی مجہول راوی ہیں جنہیں میں نہیں جانتا۔

لہذا سند کے اعتبار سے تو یہ روایت نہایت ضعیف ہے اس لیے اس روایت کی روشنی میں نہار منہ پانی پینے کی ممانعت ثابت کرنا یا نہار منہ پانی پینے والوں پر نکیر کرنا درست نہیں۔ الحاصل یہ کہا جاسکتاہے کہ نہار منہ پانی نہ پینے کے بارے میں رسول خداﷺ سے کچھ صحت کے ساتھ منقول نہیں لکہ یہ  ایک طبی اورطبعی مسئلہ ہے،اس لیے جسے خواہش یا ضرورت ہو اوراسے نقصان نہ کرتا ہووہ پی لے اور جسے چاہت یا ضرورت نہ ہویا اس کے لیے مضر ہو تو نہ پیے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4114 :

لرننگ پورٹل