لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور اس جھگڑے کے دوران شوہر نے بیوی سے کہا کہ "میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں" جبکہ شوہرکا یہ کہنا ہے کہ اس سے میری بالکل طلاق کی نیت نہیں تھی، غصہ کی حالت میں میرے منہ سے نکل گیا ، تو کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی؟ اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاق واقع ہوئی؟ اور اگر شوہر رجوع کرنا چاہتا ہو تو کیا صورت ہوگی ؟ جواب عنایت فرمائیے آپ کی عین نوازش ہوگی ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

طلاق غصے کی حالت میں بھی واقع ہوجاتی ہے اور بیوی کے حق میں طلاق کے صریح الفاظ استعمال کرنے کی صورت میں طلاق کا واقع ہونا نیت پر موقوف نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں نکاح ٹوٹ چکا ہے اب رجوع جائز نہیں، حلالہ شرعیہ (یعنی تین طلاق کے بعد عدت گزارکرعورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، پھر وہ ہمبستری کے بعد از خود اس کو طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے، پھر طلاق یا موت کی عدت گزارے، اس کے بعدآپس کی رضامندی سے  مذکورہ شخص سے دوبارہ نکاح کرے)کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ 

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتی تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (الفتاوی الهندية، 1/ 473)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4691 :

لرننگ پورٹل