لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 ایک صاحب کی آنکھوں کا مسئلہ ہے، ڈاکٹروں نے کہا کہ کورنیا تبدیل کروالیں یا لینس ڈلوالیں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تحقیق کی ہے کہ یہ جائز نہیں ہے، مفتی صاحب یہ بتائیں کیا ان کی بات درست ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

آنکھ کی بینائی کے ليےکورنیا کو تبدیل کرکے کسی زندہ یا مردہ انسان کے کورنیا کو استعمال کرنا جائز نہیں،کیونکہ انسانی اعضاء کی پیوند کاری ناجائز اور حرام ہے،  لیکن اگر خنزیر کے علاوہ کسی اور جانور کا کورنیا کارآمد ہوتو شرعاً اس کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ البتہ لینس لگوانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي. (الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات)

ولا بأس بالتداوي بالعظم إذا كان عظم شاة أو بقرة أو بعير أو فرس أو غيره من الدواب إلا عظم الخنزير والآدمي فإنه يكره التداوي بهما. (الفتاوی الهندية. كتاب الكراهية، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4364 :

لرننگ پورٹل