لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں اورپی ٹی سی ایل انٹرنیٹ لگوانا چاہ رہے ہیں۔ اس میں ابتداء میں ساڑھے چار ہزار روپے دینے ہوتے ہیں اور پھر ہر ماہ قریباً ڈھائی ہزار روپے ماہانہ خرچہ ہوتا ہے، ان لمیٹیڈ نیٹ ہوتا ہے۔ اب فیملی میں سب لوگ موبائل میں نیٹ استعمال کرتے ہیں تو اگر علیحدہ علیحدہ پیکج کروائیں تو خرچہ زیادہ ہوتا ہے لیکن اس طرح بچت ہوجاتی ہے۔ اب اگرمیں اس میں اپنا حصہ ڈال لوں تاکہ میں بھی استعمال کرسکوں، لیکن خدشہ ہے کہ گھر کے دوسرے افراد اس نیٹ سے ڈرامے وغیرہ دیکھیں تو کیا اس میں حصہ ڈالنا جائز ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں کیا علیحدہ نیٹ لوں، یا اس میں حصہ ڈال لوں اور جو لوگ جیسا استعمال کریں گے وہ انہی کے اوپر ہوگا۔ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

الجواب باسم ملهم الصواب

انٹرنیٹ کو جائز کام کےلیے استعمال کیا جائے تو شرعا اس کا استعمال جائز ہے، اگر ناجائز کام کےلیے استعمال کیا جائے مثلا ڈرامے دیکھنا، اخلاقی بے راہ روی اور دیگر فضول اور لایعنی کاموں میں لگ جانا، نماز اور دیگر دینی ودنیوی ضروری کاموں سے غافل ہوجانا وغیرہ ، تو نیٹ کا استعمال ناجائز ہے۔ باقی اضافی خرچے سے بچنے کےلیے دوسرے کے نیٹ پیکج سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا یانہیں اس کا  مدار اس پر ہے کہ اگر ایسا کرنے کی کمپنی کی طرف سے قانونا اجازت ہو تو یہ عمل جائز ہوگا، اگر اس میں کمپنی کا نقصان ہو اس لیے کمپنی دوسرے کا پیکج استعمال کرنے کی اجازت نہ دے تو اس صورت میں دوسرے کا پیکج استعمال کرنا شرعا جائز نہ ہوگا۔ اس وضاحت کی روشنی میں اگر آپ کےلیے ان کے پیکج میں حصہ دار بننا قانوناً درست ہو تو ان کا اپنے اختیار سے انٹرنیٹ کے غلط استعمال کا گناہ آپ کو نہ ہوگا۔ چوں کہ آپ کے علم میں ہے کہ مذکورہ افراد عادۃً نیٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اب بھی غالب گمان ہے کہ استعمال اکثر غلط ہی ہوگا، چناں چہ اس تعاون واشتراک سے اجتناب کریں۔

وان لم یکن محرکا وداعیا بل موصلا محضا وھو مع ذلک سبب قریب بحیث لا یحتاج فی اقامۃ المعصیۃ بہ احداث صنعۃ من الفاعل کبیع السلاح من اہل الفتنۃ وبیع العصیر ممن یتخذ خمرا وبیع الامرد ممن یعصی بہ واجارۃ البیت ممن یبیع فیہ الخمر او یتخذھا کنیسۃ او بیت نار وامثالھا فکلہ مکروہ تحریما بشرط ان یعلم بہ البائع والاجر من دون تصریح بہ باللسان فانہ ان لم یعلم کان معذورا(جواہر الفقہ لمفتی شفیع عثمانی، جلد2، ص453، تفضیل الکلام فی مسئلۃ الاعانۃ علی الحرام، طبع:مکتبۃ دارالعلوم کراتشیی)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4397 :

لرننگ پورٹل