لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

سائل ایک ادارے میں ملازمت کرتاہے، ادارہ کی وساطت سے زکوۃ کے متعلق درج ذیل سوال کے بارے میں تحریری فتوی درکار ہے۔ ادارہ ہذا نے اپنے غریب اور مستحق ملازمین کی امداد کے لیے ایک زکوۃ فنڈ قائم کر رکھاہےاور اس فنڈ میں ڈالی گئی رقوم کو ایک پرائیویٹ بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ ہر سال ادارہ کے صاحب نصاب ملازمین اپنی زکوۃ کا کچھ حصہ اس فنڈ میں جمع کرواتے ہیں جس میں سے ماہانہ کی بنیاد پر مستحق افراد کو زکوۃ کی ایک مقرر کردہ رقم فراہم کی جاتی ہے۔ اس زکوۃ فنڈ میں لوگ ہر سال کچھ رقوم جمع کرواتے ہیں اور اس میں سے کچھ رقوم مستحق افراد میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس طرح اس فنڈ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ رقم موجود رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک سال میں جمع کروائی گئی زکوۃ کی رقم کو اسی سال مستحق افراد میں تقسیم کرنا لازم ہے یا اس کی تقسیم کے عمل کو اگلے سالوں تک پھیلا یا جاسکتا ہے؟ براہ کرم اس بارے میں تحریری فتوی عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

 واضح ہو کہ جس شخص کی ملک میں سونا، چاندی، نقدی اور تجارت کی نیت سے خریدا ہوا مال مملوکہ ضرورت سے زائد سامان ان میں سے کل یا بعض مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے اس کےلیے زکوۃ کا مال کھانا حرام ہے، ایسے شخص کو زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔ نیز کسی ملازم کو ملازمت کے عوض میں بطور اجرت زکوۃ کا مال دینا جائز نہیں۔ اس وضاحت کے بعد صورت مسئولہ میں اگر مستحق افراد کو امداد دی جاتی ہو تو یہ عمل جائز ہے۔ اس فنڈ کےلیے کمپنی کی طرف سے جو ذمے دار مقرر ہے وہ ان فقراء کا وکیل ہے، اس ذمے دار کی طرف سے قائم کردہ اکاؤنٹ میں رقم ڈالنے سے زکوۃ دینے والوں کی زکوۃ ادا ہوجائے گی، اس کے بعد کوشش کی جائے کہ سال مکمل ہونے تک زکوۃ کی تقسیم کا عمل بھی مکمل ہوجائے، لیکن سال مکمل ہونے کے باوجود کچھ رقم تقسیم سے رہ جائےتو اس سے زکوۃ دینے والوں پر کوئی وبال نہ ہوگا، کیونکہ اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے سے ان کی زکوۃ ادا ہوچکی ہے۔

ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعا إلا إذا وكله الفقراء (قوله إذا وكله الفقراء) لأنه كلما قبض شيئا ملكوه وصار خالطا مالهم بعضه ببعض ووقع زكاة عن الدافع (الدر المختار و حاشية ابن عابدين كتاب الزكاة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4289 :

لرننگ پورٹل