لاگ ان
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023
لاگ ان
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023
پیر 15 رجب 1444 بہ مطابق 06 فروری 2023

 مجھے زکوٰۃ کا مسئلہ پوچھنا ہے۔ میرے پاس چھ تولہ سونا، پانچ تولہ چاندی اور تقریباً  تین لاکھ روپے ہیں جو استعمال نہیں ہوۓ اور ان پر سال گزرگیا ہے۔تو مجھے کتنی رقم زکوٰۃ  کے لیے نکالنی ہوگی؟ اس کی وضاحت فرمادیجئے۔ اس سے قبل میں نے دس ہزار روپے زکوٰۃ میں دیے تھے جبکہ اس وقت میرے پاس سوا  چھ تولہ سونا، پانچ تولہ چاندی اور ایک لاکھ روپے تھے۔ اس کی بھی وضاحت فرما دیں کہ میں نے رقم ٹھیک ادا کی یا مزید ادا کرنی تھی؟ جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

زکوٰۃ کا حساب کرنے کے لیے سال میں ایک دن متعین کرنا ضروری ہے۔ اس حساب سے جس دن زکوۃ کا سال پورا ہو اس دن آپ کی ملک میں موجود سونا چاندی کا مارکیٹ ریٹ معلوم کرکے اس میں نقدی کو، جو تین لاکھ ہےيا اس كے علاوه  جتنی بھی نقد رقم موجود ہے سب کو جمع کیا جائے، پھر مجموعے کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی نیت سے نکالنی ہوگی۔ گزشتہ سال کی مالیت کا بھی اسی طریقے سے حساب لگائیں، اگر آپ نے زکوٰۃ مکمل ادا کی ہے تو ٹھیک، ورنہ بقایا زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

(و) يضم (الذهب إلی الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) (الدر المختار، كتاب الزكاة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4388 :

لرننگ پورٹل