لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

کیا نابالغ، نماز کے لیے اذان دے سکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو اہل محلہ یا امام مسجد کے اذان کے معاملے میں نابالغ بچوں پر انحصار کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

 اگر بچہ سمجھدار ہے تو اس کی اذان صحیح ہے اگرچہ وہ نابالغ ہو لیکن بالغ کی اذان نا بالغ کی اذان سے افضل ہے ۔ عام طور پر بچوں کو اذان سکھانے اور اذان کی رغبت پیدا کرنے کےلئے ان سے اذان کہلوائی جاتی ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ بچہ سمجھدار ہو بالکل چھوٹا نا سمجھ نہ ہو۔

أذان الصبي العاقل صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية ولكن أذان البالغ أفضل وأذان الصبي الذي لايعقل لايجوز، ويعاد وكذا المجنون. هكذا في النهاية. الفتاوی الهندية، 1/54)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4446 :

لرننگ پورٹل