لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

حضرت آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ میں کہیں پڑھ رہا تھا ایک حدیث جس کا مفہوم کچھ ایسا ہے کہ کسی صحابی کو برا نہ کہو۔ کچھ مسلمان بھائی ہمارے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ سوچ رکھتے ہیں کہ وہ صرف اسی لیے مشہور ہیں کیونکہ صحابی تھے، ورنہ ان کی دین کے لیے کوئی خدمات نہیں ہیں ۔ صحابہ کے حوالے سے ایسے خیالات ہوں تو احادیث میں کیا حکم ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

حدیث شریف میں ہے: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ». (صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب تحريم سب الصحابة رضی الله عنهم) ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرے تو وہ صحابہ کرام کے ایک مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا، نہ ہی اس کے آدھے کے برابر ہوسکتا ہے۔ 

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں، اس لیے ان کی شان میں خفیف کلمات کا استعمال حدیث رسول کی مخالفت ہے۔ نیز  حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبین وحی میں سے ہیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین اور طائف میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ شرکت کرنے والے ہیں، حضرت عمر و عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں مختلف شہروں کے گورنر رہے، بیس سال مسلمانوں پر خلافت کی اور پہلے بحری بیڑے کی بنیاد رکھی۔ خود رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے دعائیں نکلی ہیں: «اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ». (مسند احمد بن حنبل، مسند الشامیین، حديث العرباض بن سارية عن النبي ﷺ) ترجمہ: اے اللہ! معاویہ کو کتاب اور حساب کا علم سکھا اور اسے عذاب سے بچا۔ 

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ. (سنن الترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه)  ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاویہ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! اس کو رہنمائی کرنے والا، ہدایت یافتہ بنادے اور اس کے ذریعے  ہدایت کو عام فرما۔

 ان سب فضائل و خدمات کا انکار کرنے والے کو یہی کہا جائے کہ ایسا شخص رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے دور ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص حضرات صحابہ کرام کے بارے میں بُرے خیالات رکھے تواس کو فاسق اور مبتدع کہا جائے گا۔ 

بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر. (رد المحتار، كتاب الطلاق، فصل في المحرمات)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمات کے حوالے سے کتاب ’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4423 :

لرننگ پورٹل