لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

جماعت کی نماز میں اگر ہر فرد چھ فٹ کے فاصلے سے کھڑا ہو تو اسے لغت کے اعتبار سے جماعت کیسے کہیں گے؟ اور چھ فٹ کے فاصلے سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا لغت کے اعتبار سے بدعت ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتائیے کہ علماء کرام نے حکومت کے خوف سے یہ کیوں فتوی دیا کہ چھ فٹ کے فاصلے سے جماعت کی نماز پڑھی جائے، اسے بدعت کیوں نہیں کہا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جماعت سے مراد کسی ایک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا ہے اس میں ایک دوسرے سے مل کر کھڑا ہونا سنت مؤكده ہے اور احادیث میں مل مل کر کھڑے ہونے کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے اس کے بر خلاف صفوں کے درمیان فاصلہ رکھنا خلاف سنت عمل ہے، معمول كے حالات میں فاصلہ رکھ کر جماعت کی صفوں میں کھڑا ہونا سخت گناہ ہے۔ لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر ایک بیماری کے امکان، ڈاکٹروں کے مشورے اور حکومتی قوانین کی وجہ سے فاصلے کے ساتھ کھڑا ہونا ایک مجبوری ہے اس کو بدعت نہیں کہا جا سکتا ۔ اس طرح بھی نماز ہوجائے گی۔ 

الحائل بينهما لو بحيث يشتبه به حال الإمام يمنع وإلا فلا، إلا أن يختلف المكان. قال قاضي خان: إذا قام علی الجدار الذي يكون بين داره وبين المسجد ولا يشتبه حال الإمام يصح الاقتداء. (رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الامامة)

وإما أن يتم الصلاة في الموضع الذي ركع فيه فيكون مصليا خلف الصفوف وحده وإنه مكروه؛ لقوله – عليه الصلاة والسلام – «لا صلاة لمنتبذ خلف الصفوف» وأدنی أحوال النفي هو نفي الكمال، ثم الصلاة منفردا خلف الصف إنما تكره إذا وجد فرجة في الصف فأما إذا لم يجد فلا تكره؛ لأن الحال حال العذر وإنها مستثناة ألا تری أنها لو كانت امرأة يجب عليها أن تقوم خلف الصف؟ لأن محاذاتها الرجل مفسدة صلاة الرجل فوجب الانفراد للضرورة. (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان ما يستحب في الصلاة وما يكره)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4454 :

لرننگ پورٹل