لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

 عوام الناس میں ایک روایتِ حدیث بہت معروف ہے، جس کی اِسنادی حیثیت کی بابت  دریافت کرنا ہے۔

مسئولہ حدیث کا مفہوم کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مفلس شخص نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی مفلسی کا تذکرہ کیا تو آپﷺ نے اُسے شادی کرنے کی نصیحت فرمائی پھر شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد پھر دوبارہ اُس نے اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے دوسری شادی کرنے کو کہا پھر دوسری شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد اُس نے دوبارہ اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے تیسری شادی کرنے کو کہا ، پھر تیسری شادی کرنے کے کچھ عرصہ بعد اُس نے پھر اپنی مفلسی کا ذکر کیا تو آپﷺ نے اُسے چوتھی شادی کرنے کو کہا ۔پھر چوتھی شادی کے بعد اُسکے مالی حالات درست ہوگئے۔

براہ کرام  مسئولہ حدیث کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ مستند ہے یا نہیں۔ اگر یہ روایت مستند ہے تو کیا کسی مفلس شخص کو اِس پر عمل کرکے اپنی مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال میں ذکر کردہ روایت بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ احادیث کی کتب میں نہیں مل سکی، البتہ نکاح کی برکت سے غربت اور تنگدستی کا دور ہونا قرآن کریم سے بھی ثابت ہے اور احادیث میں بھی اس کی ترغیب موجود ہے۔

قرآن کریم میں ہے: وَ اَنْكِحُوا الْاَيَامٰی مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (النور:32) ترجمہ:’’تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، ان کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے گا۔ اور اللہ بہت وسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے‘‘۔ 

ایک روایت جسے چند مؤرخین ومفسرین نے نقل کیا ہے۔ اس روایت میں مطلقاً شادی کا ذکر ہے: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حدثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، قَالَ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حدثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حدثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ. (تاريخ بغداد للخطيب) ترجمہ:’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے فقر وفاقہ کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے شادی کرنے کا حکم فرمایا‘‘۔

امام ذہبی اور ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کو انتہائی ضعیف اور ناقابل اعتبار قرار دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک روای سعید بن محمد ضعیف ہے۔ وہ لکھتے ہیں: قال أبو حاتم ليس حديثه بشيء. وقال ابن حبان لا يجوز أن يحتج به. (ميزان الاعتدال)

اس کے ہم معنی کچھ روایات اور بھی ہیں: أن رجلا أتی النبي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فشكا إليه الحاجة والفقر، فقال. عليك بالباءة (المقاصد الحسنة برواية الثعلبی عن ابن عجلان) ترجمہ: ’’ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنے فقر کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ تم نکاح کر لو‘‘۔

ایک اور روایت میں ہے: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلی الله عليه وسلم: ثلاث حق علی الله عونهم الغازي في سبيل الله، والناكح يريد العفاف، والمكاتب الذي ينوي الأداء» (مصنف عبد الرزاق) ترجمہ:’’ حضرت ابو هریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لوگ ایسی ہیں جن کی اللہ رب العزت ضرور مدد فرماتے ہیں: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، اپنی عفت بچانے کی خاطر نکاح کرنے والا، مکاتب جو بدل کتابت ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو‘‘۔

اگرچہ ان احادیث کی سند پر کلام ہے، تاہم نکاح کے فضائل میں ان کو بیان کرنے کی اجازت ہوگی۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4381 :

لرننگ پورٹل