لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

حضرت خالد بن ولید کی شجاعت بہت معروف ہے. تاہم انہی کی طرح بہادری دیگر صحابہ کے بارے میں بھی سنی ہے۔ ان کی تحقیق مطلوب ہے کہ آیا وہ محض روایات ہیں یا حقیقت سے کوئی تعلق بھی ہے؟ مثلا تین نام ہیں: ضرار بن الازور، خولہ بنت الازور اور قعقاع بن عمرو التمیمی۔

الجواب باسم ملهم الصواب

حضرت  ضراربن ازور رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ کے اصحاب ثروت میں تھے، عرب میں سب سے بڑی دولت اونٹ کے گلے تھے، ضرار کے پاس ہزار اونٹوں کا گلہ تھا، اسلام کے جذب وولولے میں تمام مال ودولت چھوڑ کر خالی ہاتھ آستانِ نبوی پر پہنچے اوراسلام  قبول کیا عہد صدیقی میں فتنۂ ارتداد کے خلاف  بڑی سر گرمی سے حصہ لیا بنی تمیم کا مشہور مرتد سرغنہ مالک بن نویرہ ان ہی کے ہاتھوں مارا گیا، اوراسی سلسلہ کی مشہور جنگ یمامہ میں بڑی شجاعت سے لڑے، واقدی کے بیان کے مطابق اس بے جگری سے لڑےکہ دونوں پاؤں پنڈلیوں سے کٹ گئے، مگر تلوار ہاتھ سے نہ چھوٹی،گھٹنوں کے بل گھسٹ گھسٹ کر لڑتے رہے اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے مسل کر شہید ہوئے۔ مگر شہادت کے بارہ میں روایات مختلف ہیں، بعض یمامہ میں بتاتے ہیں، بعض اجنادین میں اوربعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ تک زندہ تھے اورشام کی فتوحات میں شرکت کی،لیکن موسی ٰ بن عقبہ کی روایت کی رو سے اجنادین کے معرکہ میں شہادت پائی، یہ روایت زیادہ مستند ہے۔

اسی طرح حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا ہیں، جو عرب میں مشہور بہادر خواتین میں سے تھیں۔ جنگ یرموک میں بھی شریک تھیں، بہادری میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مشابہ تھیں،  ان کے تفصیلی واقعات فتوح الشام  میں موجود ہیں۔

دوسرے صحابی رسول ﷺ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت  رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں سیف یعنی تلوار کے  لقب سے نوازا ، جنگ قادسیہ میں حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ کا فارسیوں کے قتل میں بڑا حصہ رہا جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا انہوں نے بہت ہی عمدہ کلام فرما کر بہت سے لوگوں کو صلح پر آمادہ کیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ جنگ کے میدان میں صرف قعقاع کی آواز ہزار آدمیوں سے بہتر ہے۔

(ب د ع) ضرار بْن الأزور، واسم الأزور مالك بْن أوس بْن جذيمة بْن ربيعة بن مالك ابن ثعلبة بْن دودان بْن أسد بْن خزيمة.

كذا نسبه الثلاثة، ونسبه أَبُو عمر نسبًا آخر، فقال: ضرار بْن الأزور بْن مرداس بْن حبيب بْن عمرو بْن كثير بْن عمرو بْن شيبان الأسدي، والأول أشهر، يكنی أبا الأزور، وقيل: أَبُو بلال، والأول أكثر.كان فارسًا شجاعًا شاعرًا، ولما قدم عَلَی رَسُول اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كان له ألف بعير برعاتها، فأخبره بما خلف، وقال: يا رَسُول اللَّهِ، قد قلت شعرًا. فقال: هيه، فقال:

خلعت القداح وعزف القيان … والخمر أشربها والثمالا

وكری المحبر في غمرة … وجهدي عَلَی المسلمين القتالا

وقالت جميلة: شتتنا … وطرحت أهلك شتی شمالا

فيا رب، لا أغبنن صفقتي … فقد بعث أهلي ومالي بدالا

فقال النَّبِيّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ما غبنت صفقتك يا ضرار. وهو الذي قتل مالك بْن نويرة التميمي بأمر خَالِد بْن الْوَلِيد فِيأخبرنا أبو منصور بن مكارم بن أحمد الْمُؤَدِّبُ، بِإِسْنَادِهِ إِلَی أَبِي زَكَرِيَّا يَزِيدَ بْنِ إِيَاسٍ، قَالَ: ذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يَعْلَی بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بَحِيرٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الأَزْوَرِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَبْتُ لَهُ شَاةً فَقَالَ: دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ. وشهد قتال مسيلمة باليمامة، وأبلی فيه بلاء عظيمًا، حتی قطعت ساقاه جميعًا، فجعل يحبو عَلَی ركبتيه، ويقاتل، وتطؤه الخيل، حتی غلبه الموت، قاله الواقدي. وقيل: بل بقي باليمامة مجروحًا، حتی مات، وقيل: إنه قتل بأجنادين، من الشام، قاله موسی بْن عقبة. وقيل: توفي بالكوفة في خلافة عمر بْن الخطاب رضي اللَّه عنه، وقيل: أَنَّهُ ممن نزل حران، من أرض الجزيرة، وإنه شهد البرموك، وفتح دمشق … وقيل: إنه كان مع أَبِي جندل وأصحابه حين شربوا الخمر بالشام، فسألهم أَبُو عبيدة فقالوا: قال اللَّه: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ 5: 1 ولم يعزم، فكتب أَبُو عبيدة إِلَی عمر بذلك، فكتب إليه عمر: ادعهم، فإن زعموا أنها حلال فاقتلهم، وَإِن زعموا أنها حرام فاجلدهم. فسألهم، فقالوا: إنها حرام، فجلدهم.
 

أخرجه الثلاثة. (أسد الغابة ط الفكر، 2/ 434)

قال حزام بن غنم قلت لرجل ممن شهد اليرموك: أكانت النساء معكم مشاهدات القتال قال: نعم أحداهن أسماء بنت أبي بكر زوجة الزبير بن العوام وخولة بنت الأزور ونسيبة بنت كعب وأم أبان زوجة عكرمة بن أبي جهل وعزة بنت عامر بن عاصم الضمري مع زوجها مسلمة بن عوف الضمري ورملة بنت طليحة الزبيري ورعلة وأمامه وزينب وهند ويعمر ولبنی وأمثالهن رضي الله عنهن فلقد كن يقاتلن قتالا يرضين به الله ورسوله. (فتوح الشام (1/ 186)

خولة بنت الأزور الأسدي: شاعرة كانت من أشجع النساء في عصرها، وتشبَّه بخالد بن الوليد في حملاتها. وهي أخت ضرار بن الأزور. لها أخبار كثيرة في فتوح الشام. وفي شعرها جزالة وفخر توفيت في أواخر عهد عثمان (الأعلام للزركلي (2/ 325)

(ب) القعقاع بْن عَمْرو التميمي.

روی عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: شهدت وفاة النَّبِيّ صَلَّی اللَّهُ عليه وآله وَسَلَّمَ، قاله سيف.

وللقعقاع أثر عظيم فِي قتال الفرس فِي القادسية وغيرها، وكان من أشجع النَّاس وأعظمهم بلاء. وشهد مَعَ عليّ الجمل وغيرها من حروبه، وأرسله عليّ رَضِي اللَّه عَنْهُ إِلَی طلحة والزبير، فكلمهما بكلام حسن، تقارب النَّاس بِهِ إِلَی الصلح. وسكن الكوفة، وهو الَّذِي قَالَ فِيهِ أَبُو بَكْر الصديق رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: صوت القعقاع فِي الجيش خير من ألف رجل. (أسد الغابة ط الفكر (4/ 109)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4448 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل