لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

 ایک عرب شیخ نے لکھا ہے کہ ’’تقریباً نو مہینے پہلے مجھ سے پب جی گیم (PUBG) کے متعلق پوچھا گیا تھا تو میں نے اس کی حرمت کا فتوی دیا تھا اور یہ بیان کیا تھا کہ یہ بہت سی برائیوں کا ذریعہ ہے۔ پھر مجھے اس کے نئے اپ ڈیٹ ورژن کے متعلق پتہ چلا جس میں بتوں کی تعظیم کی جاتی ہے اور یہ بت نفع کے بھی مالک ہیں، نیز اس میں یہ بھی ہے کہ جو ان بتوں کی تعظیم کرے گا وہ طاقت ور اسلحہ حاصل کرسکے گا۔ یہ تو ظلم عظیم اور شرک اکبر ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اس گیم سے بچ کر رہے اور اپنی آل واولاد کو بھی اس سے دور رکھے۔‘‘ 

درج بالا فتویٰ کے بارے میں بتائیے کیا یہ بات صحیح ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

پب جی (PUBG) گیم اور اس جیسے دوسرے آن لائن گیم کئی طرح کے شرعی ودیگر مفاسد پر مشتمل ہوتے ہیں ان کے کھیلنے میں نہ کوئی دینی فائدہ ہے اور نہ ہی جسمانی ورزش جیسا کوئی دنیوی فائدہ ہے ، یہ محض لہو لعب اور وقت گزاری کے لیے کھیلے جاتے ہیں، جو ’’لایعنی‘‘ کام ہے، اور ان کو کھیلنے والے عام طور پر اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں اس کا نشہ سا ہوجاتا ہے، اور ایسا انہماک ہوتا ہے کہ وہ کئی دینی بلکہ دنیوی امور سے بھی غافل ہوجاتے ہیں، شریعتِ مطہرہ ایسے لایعنی لہو لعب پر مشتمل کھیل کی اجازت نہیں دیتی، جب کہ اس میں مزید شرعی قباحت یہ بھی ہے کہ یہ جان دار کی تصاویر پر مشتمل ہے،جبکہ جاندار کی تصویر بنانا، اس کو دیکھنا، اس کی تعظیم کرنا سب بڑے گناہ کے کام ہیں۔ نیز مشاہدہ یہ ہے کہ جو لوگ اس گیم کو بار بار کھیلتے ہیں، ان کا ذہن منفی ہونے لگتا ہے اور گیم کی طرح وہ واقعی دنیا میں بھی ماردھاڑ وغیرہ کے کام سوچتے ہیں، جو معاشرے کے امن کے لئے تباہ کن اور ایمان کے لئے خطرہ ہے۔ سوال میں مذکور پب جی گیم کے نئے اپ ڈیٹ ورژن میں اگر واقعۃً اس کے ذریعےکھیلنے والے کے دل و دماغ میں بتوں کی تعظیم پیدا ہوتی ہے، تو یہ اس گیم میں ایک مزید خرابی ہے۔ لیکن اگر ایسی کوئی بات نہ بھی ہو تو بھی مذکورہ قباحتوں کی بنیاد پر اس گیم کو کھیلنا جائز نہیں ہوگا بلکہ اس سے اجتناب لازم ہے۔

(ولا بأس بالمسابقة في الرمي والفرس) والبغل والحمار كذا في الملتقی و المجمع وأقره المصنف هنا خلافا لما ذكره في مسائل شتی فتنبه ( والإبل و ) علی ( الأقدام ) لأنه من أسباب الجهاد فكان مندوبا وعند الثلاثة لا يجوز في الأقدام أي بالجعل أما بدونه فيباح في كل الملاعب(الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ، فرع هل يكره رفع الصوت بالذكر)

(قوله فيباح كل الملاعب) أي التي تعلم الفروسية وتعين علی الجهاد ، لأن جواز الجعل فيما مر إنما ثبت بالحديث علی خلاف القياس ، فيجوز ما عداها بدون الجعل وفي القهستاني عن الملتقط من لعب بالصولجان يريد الفروسية يجوز وعن الجواهر قد جاء الأثر في رخصة المصارعة لتحصيل القدرة علی المقاتلة دون التلهي فإنه مكروه. (رد المحتار، کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع)

والمصارعة ليست ببدعة إلا للتلهي فتكره…وأما السياق بلا جعل فيجوز في كل شيءای مما یعلم الفروسية ویعين علی الجهاد بلا قصد التلھی(الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ، فرع هل يكره رفع الصوت بالذكر)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3433 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل