لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

 نماز جنازہ میں جو ثناء پڑھی جاتی ہے «سبحانک اللهم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک وجل ثناءک ولا اله غیرک» اس میں «وجل ثناءک» احادیث سے ثابت ہے یا نہیں اگر ہے تو کوئی حوالہ مستند دیں۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ نماز جنازہ میں سورہ الفاتحہ بطور قرات کے پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

احادیث مشہورہ میں جو ثناء کے الفاظ منقول ہیں ان میں وجل ثناؤک کے الفاظ موجود نہیں اس لئے منقول دعا پر ہی اکتفاء کرنا چاہیے، خصوصا فرائض کی ثناء میں ’’وجل ثناؤک‘‘ کے جملے کے اضافے سے احتراز کرنا چاہیے۔ البتہ نماز جنازہ چونکہ اصلاً دعا ہے، اس لئے اس کی ثناء میں وجل ثناؤک کا اضافہ جائز ہے ۔

نماز جنازہ میں قرأت قرآنی نہیں ہے، اس لئے جنازہ میں قرأت کی نیت سے سورہ فاتحہ پڑھنا مکروہ ہے، لیکن سورہ فاتحہ کا مضمون چونکہ دعائیہ ہے تو دعا کی نیت سے پڑھنے کی اجازت ہے۔

(وقرأ) كما كبر (سبحانك اللهم تاركا) وجل ثناؤك إلا في الجنازة (مقتصرا عليه) فلا يضم: وجهت وجهي إلا في النافلة، ولا تفسد بقوله – {وأنا أول المسلمين} – (قوله تاركا إلخ) هو ظاهر الرواية بدائع لأنه لم ينقل في المشاهير كافي فالأولی تركه في كل صلاة محافظة علی المروي بلا زيادة وإن كان ثناء علی الله تعالی بحر وحلية. وفيه إشارة إلی أن قوله في الهداية لا يأتي به في الفرائض لا مفهوم له، لكن قال صاحب الهداية في كتابه مختارات النوازل: وقوله " وجل ثناؤك " لم ينقل في الفرائض في المشاهير، وما روي فيه فهو في صلاة التهجد اهـ (قوله إلا في الجنازة) ذكره في شرح المنية الصغير ولم يعزه إلی أحد، ولم أره لغيره سوی ما قدمناه عن الهداية ومختارات النوازل. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار، 1/ 488)

(ولا قراءة ولا تشهد فيها) وعين الشافعي الفاتحة في الأولی. وعندنا تجوز بنية الدعاء، وتكره بنية القراءة لعدم ثبوتها فيها عنه – عليه الصلاة والسلام (الدر المختار، كتاب الصلاة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4131 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل