لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 اگر کسی کو زمین پر پڑی ایسی کوئی چیز ملے جس کا مالک معلوم نہ ہو تو اس کو کس مصرف میں لگا نا چاہیے؟ مثلا کسی کو روڈ سے پیسے ملتے ہیں توان پیسوں کو مسجد میں دیدے یا کسی غریب کو دیدے یا پھر اپنے استعمال میں لے آئے؟ ان کا اعلان بھی اگر کیا جائے تو کیسے کیا جائے کیونکہ پیسوں کے نمبر کس کو یاد ہوتے ہیں کہ وہ نشانی کے طور پر نمبربتائے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر کسی کو راستے میں ايسا مال مل جائے جس کے مالک کا کچھ علم نہ ہو اسے شرعی اصطلاح میں لقطہ کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگر یہ گمان غالب ہو کہ مالک تلاش کرتا ہوا یہاں آئے گا اور اپنا مال اٹھا لے گا اور اس وقت تک مال ضائع نہ ہوگا تو اس مال کو نہ اٹھائے بلکہ اپنی جگہ پڑا رہنے دے اور اگر مالک کے آنے تک اس لقطہ کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو امانۃً اس کو اٹھانا جائز ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ایسی چیز کو اٹھانے والا اگر میسر ہو تو دو گواہ بنالے کہ میں یہ چیز حفاظت کی غرض سے اٹھا رہا ہوں نہ کہ چوری کی غرض سے، پھر اس کی تعریف یعنی اعلان کرے۔ اعلان کا کوئی طریق متعین نہیں ہے، بلکہ وہاں کے حالات اور مال کی حیثیت کے مطابق تشہیر کا جو ذریعہ مؤثر ہو اس کا استعمال کرے۔ اسی طرح مفتیٰ بہ قول کے مطابق اعلان کرنے کی مدت بھی متعین نہیں بلکہ گری ہوئی چیز کی قدر و قمیت کے اعتبار سے اندازا لگایا جائے کہ اس کا مالک اس کی قدر و قیمت کے اعتبار سے اسے کب تک تلاش کر سکتا ہے۔جب ظن غالب ہو جائے کہ اب اس کے مالک نے اس چیز کی تلاش چھوڑ دی ہے تب اس لقطے کا حکم یہ ہے کہ اگر خود ضرورت مند یعنی مستحق زکوٰۃ ہو تو اسے خود استعمال کر سکتا ہے، ورنہ اس چیز کو مالک کی طرف سے کسی مستحق کو صدقہ کر دے۔ البتہ صدقہ کے بعد اگر اس لقطے کا مالک آکر مال کی واپسی کا مطالبہ کرے اور صدقہ پر راضی نہ ہو تو اٹھانے والے کے ذمے اس لقطے کی قیمت مالک کو ادا کرنا ضروری ہوگا۔

أما الأول فنوعان: من غير الحيوان وهو المال الساقط لا يعرف مالكه. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب اللقطة، 6/ 200)

قال الحصكفي: (إلی أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة) والثمار (كانت أمانة) لم تضمن بلا تعد. وقال الشامي تحته: (قوله: إلی أن علم أن صاحبها لا يطلبها) لم يجعل للتعريف مدة اتباعا للسرخسي فإنه بنی الحكم علی غالب الرأي، فيعرف القليل والكثير إلی أن يغلب علی رأيه أن صاحبه لا يطلبه، وصححه في الهداية، وفي المضمرات والجوهرة وعليه الفتوی وهو خلاف ظاهر الرواية من التقدير بالحول في القليل والكثير كما ذكره الإسبيجابي، وعليه قيل يعرفها كل جمعة وقيل كل شهر، وقيل كل ستة أشهر بحر. قلت: والمتون علی قول السرخسي والظاهر أنه رواية أو تخصيص لظاهر الرواية بالكثير تأمل. قال في الهداية فإن كانت شيئا يعلم أن صاحبها لا يطلبها كالنواة وقشر الرمان يكون إلقاؤه إباحة. (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب اللقطة، 4\ 278)

قال الحصكفي: (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه) (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب اللقطة، 4\ 280)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4176 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل