لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

ہمارے مکان کے سامنے KMC کی ملکیت کی کچھ زمین ہے، جس پر تعمیر کا حق انہیں حاصل ہے، لیکن پچھلے تقریبا بیس سالوں سے کوئی تعمیرنہیں ہوئی، کنسٹرکشن کمپنی نے جب مکان بناکے دیا تو سامنے کے اس حصے میں باغیچہ بناکے دےدیا جوکہ تاحال موجود ہے، پڑوسیوں نے بھی اس حصے میں باغیچہ بنایا ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس باغیچہ میں کوئی سبزی یا پھل وغیرہ اگا نا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

کے ایم سی ایک سرکاری ادارہ ہے اس کی تحویل میں جو زمین ہے وہ حکومتی ملکیت ہے، لہذا حکومت کی اجازت کے بغیر اس پر قبضہ کر کے کسی قسم کا تصرف کرنا مثلا باغیچہ بنانا یا اس میں درخت اگانا جائز نہیں۔ لیکن اگر فی الوقت حکومت اس زمین کو اپنے تصرف میں نہیں لا رہی تو اس زمین کے فارغ پڑے ہونے کی وجہ سے اگر کسی نے عارضی طور پر اس زمین میں باغیچہ بنا لیا یا سبزی اگالی تو اس کا استعمال جائز ہے، البتہ حکومت کو اختیار ہے جب چاہے زمین خالی کروالے۔ حکومت کے مطالبے پر زمین کو فوری طور پر خالی کرکے واپس کرنا لازم ہوگا، اس کے بعد قبضہ میں رکھنا غصب کے حکم میں ہونے کی وجہ سے سخت گناہ ہوگا۔

وفي فتاوی أبي الليث غصب أرضا وزرعها ونبت فلصاحبها أن يأخذ الأرض ويأمر الغاصب بقلع الزرع تفريغا لملكه، فإن أبی أن يفعل فللمغصوب منه أن يفعل وفي الذخيرة، وإن لم يحضر المالك حتی أدرك الزرع فالزرع للغاصب وللمالك أن يرجع علی الغاصب بنقصان الأرض بسبب الزراعة، وإن حضر المالك والزرع لم ينبت، فإن شاء صاحب الأرض يتركها حتی ينبت الزرع ثم يأمره بقلع الزرع، وإن شاء أعطاه قيمة بذره لكن مبذورا في أرض غيره وهو أن تقوم الأرض مبذورة وغير مبذورة فيضمن فضل ما بينهما والبذر له وفي العيون غصب من آخر أرضا وزرعها ثم اختصما وهي بذر لم تنبت بعد فصاحب الأرض بالخيار إن شاء تركها حتی تنبت ثم يقول له: اقلع ذرعك، وإن شاء أعطاه ما زاد البذر فيه. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، 8/ 127)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4460 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل