لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

 ایک روایت ہے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مردوں کےلیے زعفران کا استعمال ممنوع قرار دیا۔ لیکن ہم تو اسے اپنے کھانوں میں یا بطور دوا کے استعمال کرتے  ہیں تو کیا اس حدیث کی بنیاد پر زعفران کا استعمال ترک کردیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

زعفران ایک حلال اور پاکیزہ  چیزہے کھانے  پینے اور دوا میں اس کا استعمال جائز ہے البتہ اتنی زیادہ مقدار میں اس کا استعمال کرنا جس سے نشہ پیدا ہو جائے ممنوع ہے  ۔ باقی سوال میں مذکور حدیث جس میں ممانعت کا ذکر ہے وہ یہ ہے:

وعن أنس قال: «نهی النبي – صلی الله عليه وسلم – أن يتزعفر الرجل (صحیح البخاری، کتاب اللباس، باب التزعفر للرجال)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو زعفران کے استعمال سے منع فرمایا۔

اس حدیث کی تشریح میں محدثین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد جسم اور کپڑوں پر زعفران کا استعمال ہے کیونکہ زعفران عورتوں کی خوشبو ہے نیز اس میں رنگ بھی ہے اس لئے اس کا استعمال مردوں کے لئے منع ہے لیکن اگر قلیل مقدار میں بطور خوشبو استعمال کی جائے تو یہ منع نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے شادی کرنے والے شخص کو قلیل مقدار میں زعفران استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2821)

 (وعن أنس قال: «نهی النبي – صلی الله عليه وسلم – أن يتزعفر الرجل» ) : أي يستعمل الزعفران في ثوبه وبدنه ; لأنه عادة النساء، وأما القليل منه فمعفو عنه، لأنه – صلی الله عليه وسلم – لم ينكره لما رآه علی بعض الصحابة ذكره ابن الملك. وفي شرح السنة، قال أبو عيسی: معنی كراهة التزعفر للرجل أن يتطيب به، والنهي عن التزعفر للرجل يتناول الكثير، أما القليل منه فقد روي الترخيص فيه للمتزوج، فإن النبي – صلی الله عليه وسلم – رأی عبد الرحمن بن عوف عليه درع من زعفران، ولم ينكر عليه، قلت: لعله التصق بثوبه من العروس من غير قصده، فلا يدخل تحت النهي عن التطيب به الشامل للقليل والكثير، وكما يدل علی عموم النهي إطلاق قوله – صلی الله عليه وسلم: «طيب الرجال ما خفي لونه» " قال: وقال ابن شهاب: كان أصحاب رسول الله – صلی الله عليه وسلم – يتخلقون ولا يرون بالخلوق بأسا. قلت: ينبغي أن يحمل علی بعض الأصحاب، والمراد بهم الذين ما بلغهم النهي أو ما صح عندهم. قال: وقال عبد الملك: رأيت الشعبي دخل الحمام فخلق بخلوق، ثم غسله. قلت: لعله كان لمداواة ; مع أن تخلقه ثم غسله لا يسمی تطيبا في العرف، وسيأتي أحاديث أخر في المنع عن الخلوق مطلقا.

لہذا اس ممانعت کا تعلق بدن اور کپڑوں پرزیادہ مقدار میں  زعفران لگانے سے ہے قلیل مقدار میں زعفران کھانے اور لگانے سے اس کا تعلق نہیں۔

ولم نر أحدا قال بنجاستها ولا بنجاسة نحو الزعفران مع أن كثيره مسكر، ولم يحرموا أكل قليله أيضا (الدر المختار وحاشية ابن عابدين / رد المحتار، 6/ 455)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4481 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل