لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

کیا طحاوی میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے وتر کی ان نو سورتوں کی ان ہی ترتیبوں کے ساتھ کوئی روایت موجود ہے؟ اگر ہے تو براہ کرم ہمیں بھیج دیں۔ سورتیں یہ ہے: 

 پہلی رکعت میں: سورۃ القدر، سورۃ الزلزال، سورۃ التکاثر

دوسری رکعت: سورۃ العصر، سورۃ الکوثر، سورۃ النصر

تیسری رکعت: سورۃ الکافرون، سورۃ اللھب، سورۃالاخلاص

الجواب باسم ملهم الصواب

طحاوی شریف میں بعینہ سوال میں موجود ترتیب کے ساتھ کوئی روایت نہیں ملی، البتہ پہلی اور دوسری رکعت میں سورتوں کی ترتیب میں کچھ فرق کے ساتھ مذکورہ روایت موجود ہے۔

اس کے الفاظ یہ ہیں: حَدَّثَنَا فَهْدٌ , قَالَ: ثنا أَبُو غَسَّانَ , قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَی أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ وَإِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَإِذَا زُلْزِلَتْ وَفِي الثَّانِيَةِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَإِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَتَبَّتْ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ». (شرح معاني الآثار للطحاوی، کتاب الصلاة، باب الوتر، 1/ 290) ترجمہ:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں قصار مفصل کی نو سورتیں تلاوت فرماتے تھے،  پہلی رکعت میں  سورۃ التکاثر ، سورۃ القدر  اور سورۃ الزلزال، دوسری رکعت میں سورۃ العصر ، سورۃ النصر اور سورۃ الکوثراورتیسری رکعت میں سورۃ الکافرون ، سورۃ اللھب اور سورۃالاخلاص‘‘۔

لیکن اس حدیث کی سند کو محدثین نے راوی حارث بن الأعور کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے۔

قال الحافظ ابن حجر: الحارث بن عبد الله  الهمداني الأعور من كبار علماء التابعين علی ضعف فيه يكنی أبا زهير عن علي وابن مسعود وعنه عمرو بن مرة وأبو إسحاق وجماعة. قال شعبة لم يسمع أبو إسحاق منه إلا أربعة أحاديث وكذلك قال العجلي وزاد وسائر ذلك كتاب أخذه. وروی مغيرة عن الشعبي حدثني الحارث الأعور وكان كذابا. وقال منصور عن إبراهيم إن الحارث اتهم وروی أبو بكر بن عياش عن مغيرة قال لم يكن الحارث يصدق عن علي في الحديث. ميزان الاعتدال-العلمية (2/ 171). وقال ابن المديني كذاب. وقال جرير بن عبد الحميد كان زيفا.  وقال ابن معين ضعيف. وقال عباس عن ابن معين ليس به بأس.  وكذا قال النسائي وعنه قال ليس بالقوي. وقال الدارقطني ضعيف. وقال ابن عدي عامة ما يرويه غير محفوظ. (ميزان الاعتدال – العلمية (2/ 170)

   صحیح روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا وتر کی نماز میں عام معمول تھا کہ آپ ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الأعلیٰ، دوسری میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الإخلاص پڑھا کرتے تھے۔

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَی بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَی، وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ. إلخ. قال الذهبي: رواته ثقات عنه وهو علی شرط البخاري ومسلم. المستدرك علی الصحيحين للحاكم (1/ 447)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4365 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل