لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 میرے شوہر تقریبا دس سال سے ميرا اور بچوں كا خرچہ نہیں اٹھارہے، میرے بھائی اور دوسرے لوگ ماہانہ مجھے پیسے دیتے ہیں، بیوی کی حیثیت سے میرا شوهر کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے۔ آپ میری رہنمائی کریں اور مجھے بتائیں کہ ایسے شوہر کےلیے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

شوہر اگر نان نفقہ نہیں دیتا اور اپنے پاس بھی نہیں بلاتا، تو ایسی صورت میں اولاً اس عورت پر لازم ہے کہ شوہر کو کسی نہ کسی طریقے سے خلع پر راضی کرے، اگر وہ کسی صورت میں بھی خلع پر راضی نہ  ہو اور عورت کو سخت مجبوری بھی ہو، یعنی کوئی شخص اس کے مصارف کا کفیل نہیں بنتا اور نہ خود یہ اپنی عزت کو محفوظ رکھ کر کوئی صورت کسب معاش کی اختیار کر سکتی ہو، تو ایسی مجبوری میں عورت حاکم مسلم کے پاس دعوی پیش کرے کہ اس کا شوہر وسعت کے باوجود خرچ نہیں دیتا، حاکم شرعی شہادت سے پوری تحقیق کرے گا، اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو گیا تو حاکم شوہر کو حکم دے گا کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ میں نکاح فسخ کر دوں گا، اگر شوہر کوئی صورت قبول نہ کرے تو بلا انتظار مدت فورا ہی حاکم نکاح فسخ کر دے گا۔ اس بارے میں مذہب مالکی میں صراحت نہیں کہ یہ طلاق بائن ہے یا رجعی، فتاوٰی مالکیہ میں رجعی ہونے کو ترجیح دی گئی ہے۔ لہذا فیصلے کے بعد عدت گزرنے سےقبل اگر شوہر نفقہ دینے پر تیار ہو گیا تو اسے رجوع کا اختیار ہے، البتہ تجدید نکاح بہتر ہے اور اگر عدت کے بعد نان نفقہ دینے اور ساتھ رہنے پر راضی ہوا تو دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3138 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل