لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

سوال یہ ہے کہ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہوجاتی ہے؟ کسی نے ایک صاحب کا ایک کلپ شیئر کیا ہے جو اس سے اختلاف کررہے ہیں۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

چاروں ائمہ اور جمہور علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جو شخص امام کے ساتھ رکوع پالے، وہ اس رکعت کا پانے والا سمجھا جائے گا، امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس رکعت کی قضاء لازم نہ ہوگی۔ ذیل میں حدیث اور چند آثار نقل کئے جاتے ہیں، جس سے جمہور امت کے عمل کی تائید ہوتی ہے:

عن أبي بکرۃ رضي اللہ عنہ أنہ انتهیٰ إلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم وهو راکع فرکع قبل أن یصل إلی الصف، فذکر ذٰلک للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: زادک اللّٰہ حرصا ولا تعد. (صحیح البخاري، ۱؍۱۰۸) ترجمہ: ’’حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (بوقت نماز) ایسے وقت میں پہنچے کہ آپ ﷺ رکوع میں تھے، تو انھوں نے صف میں پہنچنے سے قبل ہی رکوع کر لیا، اور پھر یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حرص اور بڑ ھائے اور پھر سے ایسا نہ کرنا۔

ابو داؤد کی روایت میں ہے: أن أبا بکرۃ جاء ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راکع فرکع دون الصف ثم مشی إلی الصف، فلما قضی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: أیکم الذي رکع دون الصف؟ فقال أبوبکرۃ: أنا، فقال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم زادک اللہ حرصاً ولا تعد (سنن أبي داؤد، ۱۹۹) ترجمہ:’’حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (بوقت نماز) ایسے وقت میں پہنچے کہ آپ ﷺ رکوع میں تھے، تو انھوں نے جماعت کی صف تک پہنچنے سے قبل ہی رکوع کر لیا، اور چلتے ہوئے صف میں جا ملے، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل فرما لی تو ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جس نے صف میں پہنچنے سے قبل ہی رکوع کر لیا تھا؟ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ  کی جماعت  میں شامل ہونے کی حرص اور بڑ ھائے اور پھر سے ایسا نہ کرنا (یعنی رکعت ملنے کی حرص میں صف تک پہنچنے سے پہلے رکوع نہیں کرنا)‘‘۔

اعلاء السنن میں ہے: فهذہ الروایۃ دالۃ علی أن لا فصل بین انصراف النبي صلی اللہ علیہ وسلم وبین قولہ أیکم رکع دون الصف، وبین قول أبي بکرۃ ’’أنا‘‘ إذ ’’لمّا والفا‘‘ تدلان علی وقوع الفعل الثاني عقیب الأول وترتبہ علیہ فمن أین یمکن قضاء الرکعۃ. (إعلاء السنن، ۴۲۹۸) ترجمہ:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے معاً بعد یہ دریافت کیا کہ اس طرح دوڑ کر نماز میں کون شامل ہوا؟ اس پر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فوراً جواب دیا، کیونکہ ’’لما‘‘ اور ’’فا‘‘ جب ایک جملے میں ہوں تو دوسرے جزو کا ترتب پہلے جزو پر ہی ہوتا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کوئی رکعت قضا نہیں کی، اور نہ ہی آپ نے نکیر فرمائی؛ اس لئے تقریر نبوی سے معلوم ہوا کہ رکوع مل جانے سے مکمل رکعت کا ملنا سمجھا جائے گا‘‘۔

بعض منکرین لفظ ’’ولا تعد‘‘ سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت تو نماز ہوگئی؛ لیکن اگر آئندہ ایسا کوئی کرے گا تو اسے نماز قضا کرنی پڑے گی، لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اس کا مقصد یا تو یہ تھا کہ آئندہ اس طرح دوڑکر (کہ سانس پھولنے لگے) جماعت میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں، یا اس بات کی ممانعت تھی کہ آئندہ پچھلی خالی صف میں تنہا نیت مت باندھنا۔ ان دونوں احتمالات کی احادیث سے تائید ہوتی ہے۔

علامہ طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: فإن قال قائل: فما معنی قولہ ’’ولا تعد‘‘؟ قیل لہ ذٰلک یحتمل معنیین: یحتمل ولا تعد أن ترکع دون الصف حتی تقوم في الصف کما قد روي عن أبي هریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا أتی أحدکم الصلاۃ فلایرکع دون الصف حتی یأخذ مکانہ۔ ویحتمل قولہ: ’’ولا تعد‘‘ أن لا تسعی إلی الصلاۃ سعیاً یحفزک فیہ النفس کما قد جاء في غیر هٰذا الحدیث۔ عن أبي هریرۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إذا أقیمت الصلاۃ فلا تأتوها تسعون وائتوها وأنتم تمشون وعلیکم السکینۃ والوقار، فما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا۔ (طحاوی شریف جدید، ۱۲۴۱)

اور غیرمقلدین حضرات کا یہ خیال کہ اس صورت میں قیام کا فرض ادا نہ ہوگا، یہ کہنا غلط ہے، کیوں کہ تکبیرِ تحریمہ کو قیام کی حالت میں کہنا حضراتِ فقہاء نے ضروری قرار دیا ہے، جس پر عمل کرنے سے قیام کا فرض ادا ہوجائے گا۔

لأنہ لم یفتہ من الأرکان إلا القیام وهو یأتی بہ بتکبیرۃ الإحرام – إلی قولہ – وعلیہ أن یأتي بتکبیرۃ الإحرام منتصباً، فإن أتی بعد ما انتهی إلی الانحناء في الرکوع لا تنعقد. (الموسوعۃ الفقہیۃ، ۲۳۱۳۳)

اور رہا قرأت کے فوت ہونے کا مسئلہ، تو یہ ایک ایسا اجماعی مسئلہ ہے کہ جو حضرات مقتدی پر قرأت فاتحہ کے فرض ہونے کے قائل ہیں، وہ بھی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قرأت فاتحہ کا فرض مقتدی کے ذمہ سے ساقط ہوگیا۔

 چناں چہ شافعیہ کا قول  ہے: الشافعیۃ قالوا: یفرض علی المقتدي قراءۃ الفاتحۃ خلف الإمام إلا أن کان مسبوقاً بجمیع الفاتحۃ أو ببعضها؛ فإن الإمام یتحمل عنہ ما سبق بہ۔ (الفقہ علی المذاهب الأربعۃ، ۱۲۲۹)

جبکہ صحابہ کرام کا عمل اور موقف درج ذیل آثار سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے:

عن نافع عن ابن عمر رضي اللہ عنہما قال: إذا جئت والإمام راکع فوضعت یدیک علی رکبتیک قبل أن یرفع رأسہ فقد أدرکت (مصنف ابن أبي شیبۃ، ۲۴۳۳ رقم: ۲۵۳۴)

عن زید بن وهب قال: خرجت مع عبد اللہ یعني ابن مسعود من دارہ إلی المسجد، فلما توسطنا المسجد رکع الإمام فکبر عبد اللہ ورکع ورکعت معہ، ثم مشینا راکعین حتی انتهینا إلی الصف حین رفع القوم رؤوسهم، فلما قضی الإمام الصلاۃ قمت وأنا أری أني لم أدرک، فأخذ عبد اللہ بیدي وأجلسني ثم قال: إنک قد أدرکت۔ (السنن الکبریٰ للبیهقي، ۲۱۳۰، رقم: ۲۵۸۷، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

عن زید بن وهب قال دخلت أنا وابن مسعود رضي اللہ عنہ المسجد والإمام راکع فرکعنا ثم مضینا حتی استوینا بالصف فلما فرغ الإمام قمت أقضي، فقال: أدرکتہ (المصنف لعبد الرزاق، ۲۲۸۱)

عن ابن مسعود رضي اللہ عنہ قال: من فاتہ الرکوع فلا یعتد بالسجود (المصنف لعبد الرزاق، ۲۲۸۱)

عن عطاء قال: إذا رکعت قبل أن یرفع الإمام فقد أدرکت وإن رفع قبل أن ترکع فقد فاتتک. (المصنف لعبد الرزاق، ۲۲۸۲)

درج بالا آثار سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ جو مقتدی امام کو رکوع کی حالت میں پالے، وہ رکعت کو پانے والا سمجھا جائے گا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 82):

"(قوله: وإن أدرك إمامه راكعا فكبر ووقف حتی رفع رأسه لم يدرك الركعة) خلافا لزفر هو يقول أدرك الإمام فيما له حكم القيام ولنا أن الشرط هو المشاركة في أفعال الصلاة ولم يوجد لا في القيام ولا في الركوع وذكر قاضي خان أن ثمرة الخلاف تظهر في أن هذا عنده لاحق في هذه الركعة حتی يأتي بها قبل فراغ الإمام وعندنا هو مسبوق بها حتی يأتي بها بعد فراغ الإمام وأجمعوا أنه لو انتهی إلی الإمام وهو قائم فكبر ولم يركع مع الإمام حتی ركع الإمام ثم ركع أنه يصير مدركا لتلك الركعة وأجمعوا أنه لو اقتدی به في قومة الركوع لم يصر مدركا لتلك الركعة اهـ".

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3615 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل