لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

ہمارے ایک ٹیچر کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استطاعت ہونے کے باوجود قربانی نہیں کی، جب لوگوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی لازم نہیں ہے، لوگوں نے خود سے لازم بنالیا ہے، اور اسی طرح کی بات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا ہر صاحب نصاب پر واجب ہے خود رسول اللہﷺ ہر سال قربانی کا اہتمام فرماتے تھے بلکہ ازواج مطہرات کے علاوہ  اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی فرمایا کرتے تھے اور جو شخص وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے اس پر ناراضگی کا اظہار فرماتے۔

چنانچہ سنن ترمذی میں ہے: عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَی كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَقَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ(سنن الترمذي، كتاب الأضاحي عن رسول اللهﷺ، باب الأذان في أذن المولود) ترجمہ: ’’حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرفات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وقوف کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے۔ کیا تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔‘‘

امام ترمذی رحمہ اللہ کا اس حدیث کو حسن کہہ دینا قربانی کے وجوب کے استدلال کے لیے کافی ہے۔

تحسين الترمذي إياه يكفی للاستدلال به علی الوجوب (عمدۃ القاری، کتاب الاضاحی، باب قول النبي لأبی بردة ضح بالجذع…)

اس روایت میں عتیرہ کا ذکر ہے یعنی رجب کے مہینے میں جانور ذبح کرنا ، یہ عربوں کی عام عادت تھی جس سے نبی اکرمﷺ نے دوسری حدیث میں منع فرمایا اور یہ حکم منسوخ ہوگیا اور قربانی کے نسخ وغیرہ پر کوئی دلیل نہیں، لہٰذا وہ واجب ہی ہے۔

والعتيرةمنسوخة بالاتفاق…ولم تقم الدلالة علی نسخ الأضحية فهي واجبة بمقتضی الخبر(احکام القرآن للجصاص، جزء5، ص85، في حديث البراء بن عازب، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت ، 1405)

2۔ مجمع الزوائد میں ہے: عن أبي هريرة أن رسول الله صلی الله عليه و سلم نهی عن العتيرة وكانت ذبيحة يذبحونها في رجب فنهاهم عنها وأمرهم بالأضحية (مجمع الزوائد، کتاب الاضاحی، باب فی الاضحية) ترجمہ:’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عتیرہ سے منع فرمایا اور (عتیرہ) وہ  جانور ہے جس کو اہل عرب رجب میں ذبح کرتے تھے پس اس سے منع فرمایا اور (ذی الحجہ) میں قربانی کا حکم دیا۔‘‘

3۔ مجمع الزوائد میں ہے: عن علي عن النبي صلی الله عليه و سلم قال: أيها الناس ضحوا واحتسبوا بدمائها فإن الدم وإن وقع في الأرض فإنه يقع في حرز الله عز و جل(مجمع الزوائد، کتاب الاضاحی، باب فضل الأضحية وشهود ذبحها) ترجمہ:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے لوگو! قربانی کرو۔ قربانی کے خون کے بدلہ ثواب کی امید رکھو کیونکہ خون اگرچہ گرتا تو زمین پر ہے لیکن حقیقت میں وہ (قبولیت کے اعتبار سے) اللہ تعالٰی کے پاس جمع ہوجاتا ہے۔‘‘

یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے لیکن اسی مفہوم کی ایک اور روایت موجود ہے جو اس کی شاہد کی حیثیت رکھتی ہے اور ضعیف روایت کے شواہد اور موجود ہوں تو اس کو تقویت حاصل ہوجاتی ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَی اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ إِنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنْ اللَّهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ مِنْ الْأَرْضِ فَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا(سنن الترمذی، كتاب الأضاحي عن رسول اللهﷺ، باب ما جاء فی الاضحیۃ) ترجمہ:’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو اللہ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں (یعنی قربانی سے) قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں بالوں اور کھروں سمیت لایا جائے گا اور بےشک اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقام قبولیت حاصل کرلیتا ہے پس خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘

4۔ ابن ماجہ میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا(سنن ابن ماجه، کتاب الاضاحي، باب الأضاحي واجبة هي أم لا) ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس کو وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔‘‘

5۔ ترمذی میں ہے: عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ يُضَحِّي قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ(سنن الترمذی، كتاب الأضاحي عن رسول اللهﷺ، باب الدليل علی أن الأضحية سنة) ترجمہ: ’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں دس سال رہے اور آپ ﷺ نے ہر سال قربانی کی۔  یہ حدیث حسن ہے۔‘‘

البتہ سنن بیہقی میں ہے: قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَهُ اللَّهُ : وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا لاَ يُضَحِّيَانِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَی بِهِمَا فَيَظُنُّ مَنْ رَآهُمَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ(سنن البيهقي الكبری، کتاب الضحایا، باب الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها) ترجمہ:’’امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما قربانی نہیں کرتے تھے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ (اس بارے میں) ان کی اقتداء کی جائے تاکہ ان کے کبھی کبھار قربانی کو چھوڑنے سے دیکھنے والا یہ سمجھ جائے کہ قربانی فرض نہیں  ہے۔‘‘

محدثین نے مذکورہ روایت کی بہت سی توجیہات بیان فرماتے ہیں۔ ایک توجیہ یہ ہے کہ اس روایت میں حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کے اپنے صاحب استطاعت ہونے کا ذکر نہیں کیونکہ صاحب استطاعت پر اگر قربانی کو سنت بھی مان لیا جائے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ بات منقول نہیں کہ وہ کسی سنت عمل کو اس لیے چھوڑدیں کہ لوگ اس کو واجب سمجھنے لگیں، یہ کام شارعﷺ کا ہے۔ تو روایت کا معنی یہ ہے کہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما نے قربانی کو ترک کیا تاکہ لوگ اس کو فرض نہ سمجھ بیٹھیں اور اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں کہ استطاعت نہ ہونے کے باوجود بھی قربانی کرنا ضروری ہے۔

أقول علی تقدير صحة النقل عنهما يحمل علی أن الأضحية لم تكن واجبة عليهما لعدم وجود النصاب عندهما وتركاها كراهة أن يری أنها واجبة حتی علی الفقراء مع أنه لا يعرف من الصحابة أنهم تركوا السنة لئلا يتوهم الوجوب فإن هذا وظيفة الشارع حيث يترك الشيء تارة لبيان الجواز وللعلم بعدم الوجوب(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب فی الاضحیۃ)

اور دوسرا مطلب اس روایت کا یہ ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہو کہ حضرات شیخین صاحب استطاعت  ہونے کے باوجود قربانی نہیں کرتے تھے تو اس سے مراد غیر مستطیع اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرنا ہوگاکہ حضرات شیخین استطاعت کی بنا پر  خود تو قربانی کرتے تھے لیکن غیر مستطیع اہل خانہ کی طرف سے قربانی نہیں کرتے تھےتاکہ لوگ سمجھ لیں کہ گھر کے سربراہ کے ذمہ ہر ایک کی قربانی واجب نہیں۔ بلکہ ہر صاحب نصاب پر اپنی قربانی واجب ہے۔ اور یہ مفہوم کنز العمال کی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ اور یہ روایت انہی صحابی سے مروی ہے جن سے سطور بالا میں  مذکورہ روایت منقول ہے۔

عن أبي سريحة حذيفة بن أسيد الغفاري قال : لقد رأيت أبا بكر الصديق وعمر ما يضحيان عن أهلهما خشية أن يستن بهما (کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال، كتاب الحج من قسم الأفعال، باب في واجبات الحج ومندوباته) ترجمہ: ’’ابو سریحہ حذیفہ بن اسید الغفاری رحمہ اللہ سے مروی ہے فرمایا: میں نے دیکھا حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو کہ وہ اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی نہیں کرتے تھے اس بات کے خوف سے کہ کہیں ان حضرات کی اقتداء میں دیگر لوگ بھی ایسا کرنے لگ جائیں۔‘‘

وفیہ ایضاً قال ابن کثیر اسنادہ صحیح وبہ نقول فلا یجب علی المرء ان یضحی عن اہلہ وانما علی الموسر ان یضحی عن نفسہ(اعلاء السنن، کتاب الاضاحی، باب وجوب الاضحیۃ)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3851 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل