لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

غیر مسلموں کی عبادت گاہیں مسلم حکومت عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ رقم سے بنا کر دے گی، اس کی مثال سوائے پاکستان کے دنیا میں کہیں مل سکتی ہے؟ اور کیا یہ کسی اعتبار سے بھی جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو صرف یہ حق حاصل ہے کہ جہاں ان کی آبادی کے لئے ضروری ہو وہاں وہ اپنی قدیم عبادت گاہ برقرار رکھیں  یا اپنے شہر میں جہاں غیر مسلموں کی آبادی زیادہ ہو ضرورت کے تحت کوئی نئی عبادت گاہ تعمیر کریں  لیکن حکومت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے خاص طور پر ایسی جگہ جہاں پر ہندو برادری بہت کم ہو اس لئے اسلام آباد میں حکومت کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے کہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرائے۔

في الفتح: قيل الأمصار ثلاثة ما مصره المسلمون، كالكوفة والبصرة وبغداد وواسط، ولا يجوز فيه إحداث ذلك إجماعا وما فتحه المسلمون عنوة فهو كذلك، وما فتحوه صلحا فإن وقع علی أن الأرض لهم جاز الإحداث وإلا فلا إلا إذا شرطوا الإحداث اهـ ملخصا وعليه فقوله: ولا يجوز أن يحدثوا مقيد بما إذا لم يقع الصلح علی أن الأرض لهم أو علی الإحداث، لكن ظاهر الرواية أنه لا استثناء فيه كما في البحر والنهر. قلت: لكن إذا صالحهم علی أن الأرض لهم فلهم الإحداث إلا إذا صار مصرا للمسلمين بعد فإنهم يمنعون من الإحداث بعد ذلك، ثم لو تحول المسلمون من ذلك المصر إلا نفرا يسيرا فلهم الإحداث أيضا، فلو رجع المسلمون إليه لم يهدموا ما أحدث قبل عودهم كما في شرح السير الكبير (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 4/ 203)

فقد صرح في شرح السير بأنه لو ظهر علی أرضهم وجعلهم ذمة لا يمنعون من إحداث كنيسة لأن المنع مختص بأمصار المسلمين التي تقام فيها الجمع والحدود، فلو صارت مصرا للمسلمين منعوا من الإحداث، ولا تترك لهم الكنائس القديمة أيضا كما لو قسمها بين الغانمين لكن لا تهدم، بل يجعلها مساكن لهم لأنها مملوكة لهم (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 4/ 203)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4480 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل