لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

 براہ مہربانی درج ذیل حدیث کا ریفرنس بھیج دیں۔

’’ایک بار جب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم کے پاس آئے تو محمد ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل کچھ پریشان ہیں، آپ ﷺنے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپ کو غم زدہ دیکھ رہاہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کر کے آیا ہوں، اس کو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاؤ، جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا جہنم کے کل سات درجے ہیں، ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا، اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالیٰ مشرک لوگوں کو ڈالیں گے، اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے،چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے، تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے، دوسرے درجے میں اللہ تعالیٰ عسائیوں کو ڈالیں گے، یہ کہ کر جبرائیل علیہ السلام خاموش ہوگئے تو نبی کریمﷺ نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے، مجھے بتاؤ کہ پہلے درجے میں کون ہوگا؟ جبرائیل علیہ السلام نےعرض کیا اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپ کی امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے، جب نبی کریم ﷺ نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جائےگا تو آپ بھی بےحد غمگین ہوئے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کیں، تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کر کے اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے۔ صحابہ کرام حیران تھے کہ نبی کریم ﷺ پر یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے، مسجد سے حجرے جاتے ہیں، گھر بھی تشریف لے کر نہیں جارہے، جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پر آئے اور دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا، آپ روتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہٰذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جائے، آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ عنہ سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنی عظیم شخصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نہیں جانا چاہیئے، بلکہ مجھے ان کی نور نظر بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اندر بھیجنا چاہیے، لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئیں ابا جان السلام علیکم! بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائنات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا، اباجان آپ پرکیا کیفیت ہے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرماہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جائے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنی امت کے گنہگاروں کا غم کھائے جارہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کر رہاہوں کہ اللہ ان کو معاف کر اورجہنم سے بری کر، یہ کہ کر آپ ﷺ پھر سجدے میں چلےگئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گنہگاروں پہ رحم کر ان کو جہنم سے آزاد کر ،کہ اتنے میں حکم آگیا ’’ولسوف یعطیک ربک فترضی‘‘ اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاؤگے، آپﷺ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگو ں اللہ نے مجھ سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جائے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

یہ روایت فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ مَا كَانَ يَأْتِيهِ فِيهَا مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ؟» . . . إلیٰ آخرہ. (تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي، ص: 70)

لیکن کتاب میں اس روایت کی سند موجود نہیں، جبکہ مذکورہ کتاب ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں بہت سی احادیث موضوعہ موجود ہیں۔

تنبيه الغافلين في الموعظة، لأبي الليث: نصر بن محمد الفقيه، السمرقندي، الحنفي، المتوفی: سنة 375، خمس وسبعين وثلاثمائة. قال الذهبي: (فيه موضوعات كثيرة). (كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون، 1/ 487)

علاوہ ازیں ذخیرہ احادیث کی معتمد کتب میں بسیار تلاش کے باوجود یہ پوری روایت ان الفاظ کے ساتھ تو نہیں ملی۔ البتہ روایت کے اکثر اجزاء دیگر احادیث و روایات سے مؤید ہیں جو ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں۔

قال العلامة الألوسی: حدثني محمد بن الحنفية عن علي كرم الله تعالی وجهه أن رسول الله صلّی الله عليه وسلم قال: «أشفع لأمتي حتی ينادي ربي أرضيت يا محمد؟ فأقول: نعم يا رب رضيت» ثم أقبل عليّ فقال إنكم تقولون يا معشر أهل العراق إن أرجی آية في كتاب الله تعالی يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلی أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً قلت إنا لنقول ذلك قال فكلنا أهل البيت نقول: إن أرجی آية في كتاب الله تعالی وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضی وقال: هي الشفاعة .. وقيل: هي أعم من الشفاعة وغيرها ويرشد إليه ما أخرجه العسكري في المواعظ وابن مردويه وابن النجار عن جابر بن عبد الله قال: دخل رسول الله صلّی الله عليه وسلم علی فاطمة وهي تطحن بالرحا وعليها كساء من جلد الإبل فلما نظر إليها قال: «يا فاطمة تعجلي مرارة الدنيا بنعيم الآخرة غدا» فأنزل الله تعالی وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضی . وقال أبو حيان: الأولی العموم لما في الدنيا والآخرة علی اختلاف أنواعه والخبر المذكور لو سلم صحته لا يأبی ذلك. نعم عطايا الآخرة أعظم من عطايا الدنيا بكثير فقد روی الحاكم وصححه وجماعة عن ابن عباس أنه قال أعطاه الله تعالی في الجنة ألف قصر من لؤلؤ ترابه المسك في كل قصر ما ينبغي له من الأزواج والخدم. وأخرج ابن جرير عنه أنه قال في الآية من رضا محمد صلّی الله عليه وسلم أن لا يدخل أحد من أهل بيته النار. وأخرج البيهقي ففي شعب الإيمان عنه أنه قال: رضاه صلّی الله عليه وسلم أن يدخل أمته كلهم الجنة. وفي رواية الخطيب في تلخيص المتشابه من وجه آخر عنه لا يرضی محمد صلّی الله عليه وسلم وأحد من أمته في النار وهذا ما تقتضيه شفقته العظيمة عليه الصلاة والسلام علی أمته فقد كان صلّی الله عليه وسلم حريصا عليهم رؤوفا بهم مهتما بأمرهم. وقد أخرج مسلم كما في الدر المنثور عن ابن عمر أنه صلّی الله عليه وسلم تلا قول الله تعالی في إبراهيم عليه السلام فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وقوله تعالی في عيسی إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ الآية فرفع عليه الصلاة والسلام يديه وقال: «اللهم أمتي أمتي» وبكی فقال الله تعالی: يا جبريل اذهب إلی محمد صلّی الله عليه وسلم فقل له إنا سنرضيك في أمتك يخفی ولا نسوؤك. (روح المعاني، سورة الضحی: 5، 15/ 380)

وَعَن عبَّاسِ بنِ مِرْداسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ فَأُجِيبَ: «إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الْمَظَالِمَ فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ» . قَالَ: «أَيْ رَبِّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ» فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ فَأُجِيبَ إِلَی مَا سَأَلَ. قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِ قَالَ تبسَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لأمَّتي أخذَ الترابَ فَجعل يحشوه عَلَی رَأْسِهِ وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَرَوَی البيهقيُّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور نحوَه. مشكاة المصابيح (2/ 799)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر2078 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل