لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022
بدھ 09 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 05 اکتوبر 2022

 کیا کسی غیر محرم کی آواز سننا گناہ ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ ایک خاتون کی جانب سے درج ذیل دلائل آئے ہیں، ان پر رہنمائی فرمادیں۔ جب آپ کسی دوکان پر جاتے ہیں کچھ خریدنے اور وہاں کوئی خاتون بیچ رہی ہوتی ہیں، تو کیا آپ ان سے بات نہیں کرتے، جب آپ اپنی کسی خاتون رشتے دار سے ملتے ہیں اور وہ رشتہ دار محرم نہیں ہوتیں تو کیا آپ ان سے بات نہیں کرتے، کیا آپ انہیں خوش آمدید نہیں کہتے، کیا آپ ان سے اُنکا حال نہیں پوچھتے۔ دین کا مدار آرا پر نہیں ہے۔کوئی صحیح عالم یہ نہیں کہے گا کہ یہ حرام ہے، کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ یہ حرام نہیں ہے، میں آپ کو بتاتی ہوں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا مردوں کو پڑھایا کرتی تھیں اپنی آواز سے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی بات سنا کرتے تھے۔ سنن ابن ماجہ میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف فرما رہی تھیں، وہ ایسے الفاظ کہہ رہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ان میں بیان ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کوئی گناہ کی بات کرتے سنتے تو کیا وہ ان کو نہیں روکتے، بالکل روکتے، کیوں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ خواتین کی آواز کو سننا گناہ نہیں ہے۔ تو جو کوئی کہتا ہے کہ وہ گناہ ہے وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ وہ اجماع کے خلاف جا رہا ہے مسلمان علماء کے۔ کیونکہ میں نے آپ کو بتایا کہ یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار خواتین کی آواز کو سنا ہے اگر یہ گناہ ہوتا یا پھر خواتین کی آواز بھی عورة ہوتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں خاموش نہیں رہتے۔ جو لوگ اس کو حرام کہتے ہیں وہ عالم نہیں ہیں چاہے اس ملک میں ہوں چاہے کسی اور ملک میں۔ ہم اہل سنت والجماعت کے علماء کی پیروی کرتے ہیں ان کی نہیں جو اپنی آرا سے باتیں کرتے ہیں۔آپ کو چاہیے کہ دو کلمے شہادت کے کہیں اسلام میں داخل ہونے کے لیے۔ کیوں کہ جو یہ کہتا ہے کہ خواتین کی آواز سننا گناہ ہے، وہ اجماع کے خلاف کر رہا ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’عورت کی آواز کے ستر ہونے میں حضرات ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی کتب میں عورت کی آواز کو ستر میں داخل نہیں کیا گیا۔ حنفیہ کے نزدیک بھی مختلف اقوال ہیں۔ ابن ہمام رحمہ اللہ نے نوازل کی روایت کی بناء پر ستر میں داخل قرار دیا ہے۔اسی لئے حنفیہ کے نزدیک عورت کی اذان مکروہ ہے لیکن حدیث سےثابت ہے کہ ازواج مطہرات نزول حجاب کے بعد بھی پس پردہ غیر محارم سے بات کرتی تھیں اس مجموعہ سے راجح اور صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس موقع اور جس محل میں عورت کی آواز سے فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ ہو وہاں ممنوع ہے جہاں یہ نہ ہو جائز ہے اور احتیاط اسی میں ہے کہ بلا ضرورت عورتیں پس پردہ بھی غیر محرموں سے گفتگو نہ کریں‘‘۔ (معارف القرآن، سورۃ النور)

مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے امداد الفتاویٰ میں لکھا ہے: ’’عورت کی آواز کے عورت (ستر) ہونے میں اِختلاف ہے مگر صحیح یہ ہے کہ وہ عورت (ستر) نہیں۔ لیکن عوارض کی وجہ سے بعض جائز اُمور کا ناجائز ہوجانا فقہ میں معروف و مشہور ہے اِس لیے فتنہ کی وجہ سے عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے‘‘۔

اسی طرح ایک مقام میں سوال جو اب ہے:

’’سوال: میں نے اپنے گھر میں عرصہ سے تجوید سکھائی ہے اللہ کا شکرہے )گھر کی عورتیں) باقاعدہ پڑھنے لگی ہیں جن لوگوں کو اِس اَمر کی اِطلاع ہے وہ کبھی آکر کہتے ہیں کہ ہم (عورتوں سے قرآن پاک) سننا چاہتے ہیں اور معتمد لوگوں کو پردہ کے ساتھ سنوادینا جائز ہے یا نہیں؟ اگرچہ ایسا کیا نہیں اَب جیسا حکم ہوگا ویسا کروں گا۔

الجواب: ہرگز جائز نہیں لِاَنَّه اسِمَاعُ صَوْتِ الْمَرْاةِ بِلا ضرورتِ شرعیہ( کیونکہ عورت کی آواز کو بغیر شرعی ضرورت) کے سنانا ہے اِس لیے جائز نہیں۔‘‘

مذکورہ حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ عورت کی آواز کے ستر ہونے میں ائمہ کا اختلاف یہ کوئی اجماعی مسئلہ نہیں ۔اس لئے یہ کہنا کہ عورت کی آواز کے جائز ہونے پر امت کا اجماع ہے اور جو اس کو حرام کہے وہ مسلمان نہیں کیونکہ اجماع کے خلاف جا رہا ہے ،کسی طرح درست نہیں بلکہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ بلا ضرورت عورت کی آوازکو سننا اس سے تلذذ حاصل کرنا ناجائز اور گناہ ہے سوال میں خاتون نے جتنے مقامات ذکر کئے ہیں ان میں سے اکثر مقامات ضرورت میں داخل ہیں، اس لئے وہاں عورت کی آواز کا سننا جائز ہے جبکہ ٹی وی پر عورت کو دیکھنا یا اس کی آواز کا سننا بلا ضرورت ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔

اختلف العلماء في صوت المرأة فقال بعضهم إنه ليس بعورة، لأن نساء النبي كن يروين الأخبار للرجال، وقال بعضهم إن صوتها عورة، وهي منهية عن رفعه بالكلام بحيث يسمع ذلك الأجانب إذا كان صوتها أقرب إلی الفتنة من صوت خلخالها، وقد قَالَ اللَّه تَعَالی : {ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن} فقد نهی اللَّه تَعَالی عن استماع صوت خلخالها لأنه يدل علی زينتها، فحرمة رفع صوتها أولی من ذلك، ولذلك كره الفقهاء أذان المرأة لأنه يحتاج فيه إلی رفع الصوت، والمرأة منهية عن ذلك،(الفقه علی المذاهب الاربعة،کتاب الحدود المقدمة في تعريف الحدود الشرعية، ص 26)

فإنا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلی ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم)حاشية رد المحتار علی الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،باب شروط الصلاۃ،ص406،الناشر دار الفكر للطباعة والنشر بيروت،سنة النشر 1421هـ – 2000م)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4403 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل