لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

ایک خاتون کینسر کی مریض ہے، اس کے علاج پر ہر مہینے پچاس ہزار روپے کا خرچہ ہے۔ اس کے تین بچے ہیں، بڑی بیٹی کی عمر پندرہ سال ہے۔ اس کے شوہر کی آمدنی پچیس ہزار ہے۔ اس کے پاس کوئی زیور نہیں، سوائے چھوٹی موٹی کیلیں یا لاکٹ کے۔ مریضہ کے باپ کے پاس دو دوکانیں ہیں، ایک پر وہ خود بیٹھ کر کماتے ہیں اور دوسری انہوں نے کرائے پر دے رکھی ہے۔ اور دو گھر ہیں، ایک میں وہ خود اوپر کے حصے میں رہتے ہیں اور نیچے مریضہ رہتی ہے، دوسرا فلیٹ ہے جو کرائے پر ہے اور اس فلیٹ میں مریضہ بھی 25 فیصد کی حصے دار ہے، یعنی مریضہ نے فلیٹ کی مد میں ۲۵ فیصد رقم ملائی تھی۔ جس وقت فلیٹ لیا تھا، اس کی قیمت تیس لاکھ تھی، تو انہوں نے تقریباً ساڑھے سات لاکھ ملائے تھے۔ اس فلیٹ کی کل مالیت پچیس سے تیس لاکھ روپے ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم زکوٰۃ کی رقم سے اس کا علاج کرواسکتے ہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

 صورت مسئولہ میں وہ خاتون اپنے والد کے فلیٹ میں 25 فیصد کی حصہ دار ہیں اور یہ فلیٹ چونکہ ضرورت سے زائد ہے لہذا ضرورت سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار کی مالکہ ہونے کے باعث آپ کی بہن مستحق زکوۃ نہیں اس لئے زکوۃ کی رقم سے ان کا علاج کروانا جائز نہیں ہوگا۔

أي المصرف الفقير والمسكين والمسكين أدنی حالا وفرق بينهما في الهداية وغيرها بأن الفقير من له أدنی شيء والمسكين من لا شيء له وقيل علی العكس ولكل وجه والأول هو الأصح، وهو المذهب كذا في الكافي والأولی أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب كما في النقاية أخذا من قولهم يجوز دفع الزكاة إلی من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير تام، وهو مستغرق في الحاجة، ولا خلاف في أنهما صنفان هو الصحيح؛ لأن العطف في الآية يقتضي المغايرة. البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 258)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4470 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل