لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 فیملی تراویح میں خواتین کو لقمہ دینے کی اجازت ہے یا وہ تالی مار کر غلطی کی طرف صرف متوجہ کرسکتی ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر مرد گھر میں تراویح کی امامت کرے اور اس کے پیچھے اس کی محرم خواتین اقتدا کریں اور  عورتوں کی صف مردوں کی صف سے پیچھے ہو تو یہ نماز شرعاً درست ہے، اور اگر اس نماز میں دوسرے کوئی نامحرم مرد شامل نہ ہوں تو عورت غلطی آنے پر اپنے محرم امام کولقمہ دے سکتی ہے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، البتہ عورت کو لقمہ دینے سے اس صورت میں بھی اجتناب کرنا چاہیے، غلطی آنے پر بائیں ہاتھ کی پشت پر دائیں ہاتھ سے مار کر امام کو متوجہ کردینا چاہیے، اور امام غلطی کی اصلاح نہ کرسکے تو اسے چاہیے کہ رکوع کرلے۔

(الف) "وتدفعه" المرأة "بالإشارة أو التصفيق بظهر أصابع" يدها "اليمنى على صفحة كف اليسرى" لأن لهن التصفيق "ولا ترفع صوتها" بالقراءة والتسبيح "لأنه فتنة" فلا يطلب منهن الدرء به. (مراقى الفلاح، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة)

(ب) وقد يقال التصفيح فهما بمعنى واحد ولو سبحت وصفق لا تفسد وقد تركا السنة در قوله: "والتسبيح" الواو بمعنى أو وهو كذلك في نسخ قوله: "لأنه فتنة" قد مر أن الفتنة إنما تكون بما فيه تمطيط وتبيين لا مطلق الصوت. (حاشية الطحطاوى، كتاب الصلاة، باب في ما لايفسد الصلاة)

(ج) وفي شرح المنية الأشبه أن صوتها ليس بعورة، وإنما يؤدي إلى الفتنة كما علل به صاحب الهداية وغيره في مسألة التلبية ولعلهن إنما منعن من رفع الصوت بالتسبيح في الصلاة لهذا المعنى ولا يلزم من حرمة رفع صوتها بحضرة الأجانب أن يكون عورة كما قدمناه. (البحر الرائق، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4426 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل