لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 سوال یہ ہے کہ فی زمانہ اگر مرد اپنی بیوی کو کسی اور مرد کے ساتھ دیکھ لے اور اس کے پاس گواہ بھی نہ ہو تو صورت مسئولہ میں وہ لعان کر سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ لعان کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے مرد قاضی کی عدالت میں اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا  اپنے سے بچے کے نسب کی نفی کرے یعنی یہ کہے کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے اور اس کے پاس اپنے دعوے پر گواہ موجود نہ ہوں اور عورت اس تہمت کی بناء پر لعان کا مطالبہ کرے، تو لعان واجب ہوتا ہے، بشرطیکہ دونوں کے درمیان نکاح صحیح ہوا ہو، دونوں عاقل، بالغ اور مسلمان ہوں اور دونوں میں سے کوئی گونگا نہ ہو، نیز پہلے کبھی تہمت لگانے کی وجہ سے اُن پر حد جاری نہ ہوئی ہو۔ پس شرائط مذکورہ کے پائے جانے کے وقت لعان واجب ہوجائے گا ۔مذکورہ شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی گئی تو لعان واجب نہیں ہوگا۔ لہذا  صورت مسئولہ میں چوں کہ صراحۃً زنا کی تہمت یا بچہ کی نفی کا ذکر نہیں بلکہ محض اپنی بیوی کو کسی مرد کے ساتھ دیکھنے کا ذکر ہے، تو اس سے دونوں کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی لعان لازم ہوا۔البتہ شوہر کو چاہیے کہ بیوی کو غلط کام سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

(وسببه قذف الرجل زوجته قذفا يوجب الحد في الأجنبية) خصت بذلك لأنها هي المقذوفة فتتم لها شروط الإحصان. وركنه شهادات مؤكدات باليمين واللعن. .(وحكمه حرمة الوطء والاستمتاع بعد التلاعن ولو قبل التفريق بينهما) لحديث «المتلاعنان لا يجتمعان أبدا». (وأهله من هو أهل للشهادة) علی المسلم -(فمن قذف) بصريح الزنا في دار الإسلام (زوجته) الحية بنكاح صحيح – ولو في عدة الرجعي – العفيفة عن فعل الزنا وتهمته، بأن لم توطأ حراما ولو مرة بشبهة، ولا بنكاح فاسد ولا لها ولد بلا أب (وصلحا لأداء الشهادة) علی المسلم؛ فخرج نحو قن وصغير، ودخل الأعمی والفاسق لأنهما من أهل الأداء (أو) من (نفی نسب الولد) منه، أو من غيره (وطالبته) -أو طالبه الولد المنفي (به) أي بموجب القذف وهو الحد عند القاضي ولو بعد العفو، أو التقادم، فإن تقادم الزمان لا يبطل الحق في قذف وقصاص وحقوق عباد جوهرة. والأفضل لها الستر، وللحاكم أن يأمرها به (لاعن). (الدر المختار، کتاب الطلاق، باب اللعان)

وفي آخر حظر المجتبی لا يجب علی الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا، فما في الوهبانية ضعيف كما بسطه المصنف. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار، 3/ 50)

والمزني بها لا تحرم علی زوجها. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، رد المحتار، 3/ 50)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4428 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل