لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

 میں فروٹ اور سبزی منڈی میں کام کرتا ہوں۔ اکثر کسی نہ کسی سبزی یا فروٹ پر کسی وجہ سے مندی کا اثر ہوتا ہے اور اس کا ریٹ غیر معمولی طور پر نیچے ہوتا ہے، جو کہ اس وقت کہ حالات کہ حساب سے سمجھ آتا ہے، مگر مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ کچھ دن، ہفتے یا مہینے کی بات ہے اور پھر مندی کا اثر زائل ہوجائے گا اور ریٹ واپس چڑھ جائے گا۔ وجوہات کوئی بھی ہوسکتی ہیں، مثلاً انار کا سیزن دو تین مہینے کا ہوتا ہے اور اس میں اتنا وافر مقدار میں ہوتا ہے کہ پوری طرح سے بک نہیں سکتا تو لوگ زائد مال یا کم ریٹ والا مال اٹھا کر سٹور میں ڈال دیتے ہیں کہ جب سیزن ختم ہو جائے گا تو ہمارے پاس مال ہوگا بیچنے کے لیے یا پھر کسی کی نیت ہی یہ ہوتی ہے کہ ابھی سستا خرید لو بعد میں ریٹ جب آسمان کو چھو لے گا تو اس وقت بیچنے کی کریں گے۔ ہم اس مال کو اسٹور کرنے والی چیز میں آنا چاہتے ہیں، مگر ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ کہیں پڑھا تھا کہ مال چالیس دن سے زیادہ نہیں رکھیں۔ اصل میں ہمیں یہ بات نہیں پتہ ہوتی کہ مال کتنے دن رکھنا پڑے گا۔ منڈی میں جب مال آجاتا ہے تو وہ واپس تو جا نہیں سکتا اور ہم نہیں تو کوئی اور خریدے گا ہی ورنہ پھینکنا پڑے گا۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

ذخیرہ اندوزی کے حکم میں تین امور قابل غور ہیں:(1) ایک یہ کہ جس چیز کی ذخیرہ اندوزی کی جا ئے، اگر وہ چیز عرف عام میں انسانوں اور مواشی کی بنیادی غذا کے طور پر استعمال نہ ہوتی ہو، تو اس چیز کی ذخیرہ اندوزی جائز ہے۔ (2) اور اگر وہ چیز عرفِ عام میں انسانوں یا جانوروں کی غذاء کے طور پر استعمال ہوتی ہو تو اس چیز کی ذخیرہ اندوزی جائز ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اس ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے عام لوگوں کو ضرر نہ پہنچے۔ ضرر پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز مارکیٹ میں اتنی مہنگی ہو جائے کہ عوام کے لیے اس کا حصول انتہائی دشوار ہو جائے۔ اور اگر ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے عوام الناس کو ضرر شدید لاحق ہوتا ہو، تو یہ ذخیرہ اندوزی جائز نہیں۔ چنانچہ صورت مسئولہ میں ایسی سبزیاں اور پھل جو انسانوں یا جانوروں کی بنیادی غذا نہیں،ان کا ذخیرہ کرنا جائز ہے۔ (3) اسی طرح اگر وہ چیز بنیادی غذا کا حصہ ہے تو اس کی دخیرہ اندوزی گرانی کا باعث نہیں تب بھی ذخیرہ اندوزی جائز ہے۔ بصورت دیگر یعنی اگر یہ ذخیرہ اندوزی گرانی کا باعث بنتی ہے تو یہ ذخیرہ اندوزی جائز نہیں۔ 

(الف) عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من احتكر على المسلمين طعامهم ضربه الله بالجذام والإفلاس". رواه ابن ماجۃ والبيهقي في شعب الإيمان . (مشكاة المصابيح:کتاب البيوع،باب الإحتكار)

(ب) (و) كره (احتكار قوت البشر) كتين وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث الجالب مرزوق والمحتكر ملعون فإن لم يضر لم يكره. (الدر المختار: 6/398)

(ج) ثم ذهب اکثر الفقهاء الی ان حرمة الاحتکار مختصة بالاقوات، فلا يحرم الاحتکار فی غيرها وهو قول أبی حنيفة والشافعی ومالک وأحمد رحمهم الله تعالیٰ. (تکلمة فتح الملهم: 1/656) 

(د) ويكره ‌الاحتكار والكلام في ‌الاحتكار في موضعين أحدهما في تفسير ‌الاحتكار وما يصير به الشخص محتكرا والثاني في بيان حكم ‌الاحتكار. (أما) الأول فهو أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع عن بيعه وذلك يضر بالناس وكذلك لو اشتراه من مكان قريب يحمل طعامه إلى المصر وذلك المصر صغير وهذا يضر به يكون محتكرا وإن كان مصرا كبيرا لا يضر به لا يكون محتكرا ولو جلب إلى مصر طعاما من مكان بعيد وحبسه لا يكون احتكارا. وروي عن أبي يوسف – رحمه الله – أنه يكون احتكارا لأن كراهة ‌الاحتكار بالشراء في المصر والامتناع عن البيع لمكان الإضرار بالعامة وقد وجد ههنا ولأبي حنيفة – رضي الله عنه – قول النبي – عليه الصلاة والسلام – «الجالب مرزوق» وهذا جالب ولأن حرمة ‌الاحتكار بحبس المشترى في المصر لتعلق حق العامة به فيصير ظالما بمنع حقهم على ما نذكر ولم يوجد ذلك في المشتري خارج المصر من مكان بعيد لأنه متى اشتراه ولم يتعلق به حق أهل المصر فلا يتحقق الظلم ولكن مع هذا الأفضل له أن لا يفعل ويبيع لأن في الحبس ضررا بالمسلمين وكذلك ما حصل له من ضياعه بأن زرع أرضه فأمسك طعامه فليس ذلك باحتكار لأنه لم يتعلق به حق أهل المصر لكن الأفضل أن لا يفعل ويبيع لما قلنا ثم ‌الاحتكار يجري في كل ما يضر بالعامة عند أبي يوسف – رحمه الله – قوتا كان أو لا وعند محمد – رحمه الله – لا يجري ‌الاحتكار إلا في قوت الناس وعلف الدواب من الحنطة والشعير والتبن والقت. (وجه) قول محمد – رحمه الله – أن الضرر في الأعم الأغلب إنما يلحق العامة بحبس القوت والعلف فلا يتحقق ‌الاحتكار إلا به (وجه) قول أبي يوسف – رحمه الله – إن الكراهة لمكان الإضرار بالعامة وهذا لا يختص بالقوت والعلف (وأما) حكم ‌الاحتكار فنقول يتعلق بالاحتكار أحكام (منها) الحرمة لما روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه قال «المحتكر ملعون والجالب مرزوق». (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ٥/ ١٢٩)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3141 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل