لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 ایک خاتون کے شوہر ایک نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے شخص کو نبی مانتے ہیں، اس کا اقرار بھی کرتے ہیں، ان کے حلقے میں بھی جاتے رہتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے، احادیث کا صریح انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم پرصرف قرآن کی تعلیمات کو ماننا لازم ہے۔ اب اس خاتون کے نکاح کی کیا حیثیت ہے اور مزید ان کے لیے شرعی اعتبار سے کیا حکم ہے؟ شریعت ان سے کیا تقاضا کرتی ہے؟ اس کی وضاحت فرمادیں۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

جس شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی اور شخص کو نبوت عطا کی گئی یا کی جاسکتی ہے، یا وہ شخص کسی مدعی نبوت کی تصدیق کرتا ہو وہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نکاح سے پہلے ہی ان عقائد کو مانتا تھا تو اس عورت کا اس شخص سے نکاح باطل ہے، دونوں کے درمیان فورًا علیحدگی کر نا ضروری ہے۔ ان میں باہمی تعلق سے اگر بچے پیدا ہوئے، ان کا نسب اس شخص سے ثابت نہیں ہوگا۔ البتہ وہ بچے ماں کے تابع ہو کر مسلمان شمار ہوں گے۔اور اگر یہ شخص نکاح کے وقت اس قسم کے عقائد کا حامل نہ تھا بلکہ مسلمان تھا اور بعد میں مرتد ہوا تو حکومت کی ذمے داری ہے کہ اس کو گرفتار کرکے پہلے اس کے شکوک وشبہات دور کرنے کی کوشش کرے، اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کرلے تو دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کرے تو قاضی دونوں کے نکاح کو فسخ کردے گا۔ اس کے بعد عورت پر واجب ہے کہ وہ فی الفور اس سے علیحدہ ہو جائے۔ اسلامی حکومت پر بھی واجب ہے کہ ایسے شخص کو ارتداد کی سزا میں قتل کر دے اور اسےعوام الناس کے لیے عبرت کا نشان بنا دے۔

يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم في البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلاة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر في شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمی به غير المعنی المراد ويتكلمون في جناب نبينا – صلی الله عليه وسلم – كلمات فظيعة. وللعلامة المحقق عبد الرحمن العمادي فيهم فتوی مطولة، وذكر فيها أنهم ينتحلون عقائد النصيرية والإسماعيلية الذين يلقبون بالقرامطة والباطنية الذين ذكرهم صاحب المواقف. ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم، وفيهم فتوی في الخيرية أيضا فراجعها (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 4/ 244)

وفي مجمع الفتاوی: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل. وقال الشامي: أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، كتاب النكاح، فصل في ثبوت النسب، 3/ 555)

(قوله: فأسلم هو) أي أحد أبويه ح أي فإن الصبي يصير مسلما لأن الولد يتبع خير الأبوين دينا. ولا فرق بين كون الولد مميزا أو لا كما مر. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، باب الحضانة، 2/ 230)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3979 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل