لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

درج ذیل واقعے کی تصدیق درکار ہے:

’’حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش نہیں کی۔ ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرفا سے اظہار فرمایا۔یرفا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرفا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کے لئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟ چھوڑو یرفا، اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔ غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے،تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر ان کی وہیں ہوجائے گی۔ غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑا تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا۔ عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟ وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نہ لیں۔ غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ، پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے) فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔ مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرفا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے:’’اوہ یار یرفا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے، اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں، کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ، میں تو دعائیں مانگتا ہوں۔ اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔ میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا۔ اے اللہ میں جانور تھا، بےزبان تھا، 16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کے لیے، تو پھر یرفا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟‘‘ یرفا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں۔“

الجواب باسم ملهم الصواب

مذكوره واقعہ تاریخ دمشق ، تاریخ الخلفاء، سیر اعلام النبلاء میں کچھ اختصار کے ساتھ موجود ہے ۔

 عبد الله بن وهب نا عبد الرحمن بن زيد عن أبيه عن جده قال قال عمر بن الخطاب يوما لقد خطر علی قلبي شهوة الحيتان الطري قال فيرتحل يرفأ فيرتحل راحلة له فسار ليلتين إلی الجار مدبرا وليلتين مقبلا واشتری مكتلا فجاءه به قال ويعمد يرفأ إلی الراحلة فغسلها فأتی عمر فقال انطلق حتی أنظر إلی الراحلة فنظر ثم قال نسيت أن تغسل هذا العرق الذي تحت أذنها عذبت بهيمة من البهائم في شهوة عمر لا والله لا يذوق عمر مكتلك. (تاريخ دمشق لابن عساكر (44/ 301)

ترجمہ:’’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں تازہ مچھلی کھانے کی خواہش پیدا ہوئی تو اس كی خبر پاتے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یرفا نے رخت سفر باندھ لیا اور مدینے سے جار نامی مقام تک چار راتوں کا سفر کیا دو راتیں جانے کا اور دو راتیں واپسی کا اور مچھلیوں سے بھری ایک زنبیل خرید لی سفر طے کرنے کے بعد یرفا نے سوار کو اچھی طرح دھو دیا تاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سفر کا علم نہ ہو سکے حضرت عمر تشریف لائے اور فرمایا کہ آؤ ذرا ہم سواری کو دیکھ لیں پھر فرمایا کہ اے یرفا تم اس کے کان کے نیچے کا پسینہ دھونا بھول گئے تم نے عمر کی دل کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک جانور کو تکلیف دی خدا کی قسم عمر اس زبنیل سےنہیں کھائے گا‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4479 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل