لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 درج ذیل سوال وجواب کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیا یہ درست ہے؟ 

سوال: اس قصے کی کیا حقیقت ہے کہ "التحیات" کا لفظ اس وقت استعمال کیا گیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کےلیے آسمان پر تشریف لے گئے اور جس وقت آپ سدرۃ المنتہی پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ والطَّيِّبَاتُ"۔ اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" پھر فرشتوں نے کہا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ" یہ قصہ اسکولوں اور مدارس میں بچوں کو "التحیات" یاد کروانے کیلیے بتلایا جاتا ہے۔

جواب: اس واقعے کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور نہ کوئی سند ہے، ہمیں ثابت شدہ احادیث میں اس سے متعلق کوئی نام و نشان نہیں ملا، لیکن واقعۂِ معراج مکمل تفصیلات کےساتھ صحیح بخاری و صحیح مسلم سمیت دیگر کتابوں میں ثابت شدہ ہے، اس کے با وجود نماز کے تشہد سے متعلق ایسی کوئی بات ان میں ذکر نہیں کی گئی، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ تشہد صحابہ کرام کو سکھایا تو اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیلات بیان نہیں فرمائیں۔ چنانچہ صحیح بخاری: (6328) اور مسلم: (402) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  سے روایت کرتے ہیں کہ  "ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے کہا کرتے تھے: اللہ تعالی پر سلامتی ہو، فلاں پر بھی سلامتی ہو،  تو ایک بار ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالی تو بذاتِ خود ہی سلامتی ہے، اس لیے جب بھی کوئی تشہد میں بیٹھے تو یوں کہا کرے: (اَلتَّحِيَّاتُ للهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) [تمام زبانی، بدنی، اور مالی عبادات اللہ تعالی کےلیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی ، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں]  (جب ایسے کہے گا تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں تک  نمازی کی دعا پہنچ جائے گی، یہ کہنے کے بعد جو مانگنا چاہے سو مانگ لے)" 

ہمیں زیادہ سے زیادہ اس واقعہ کے بارے میں (سَلامٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ) نہایت رحم کرنے والے پروردگار کی طرف سے تم پر  سلامتی ہو آیت کے تحت چند تفسیر کی کتابوں میں یہ بات ملی ہے کہ:

"مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے اشارہ ہے اللہ تعالی کے اس سلام کی طرف جو شب معراج کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر اللہ تعالی نے فرمایا تھا: "السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" [اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں ہوں] تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلام کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا تھا: "اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ"< [ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی ہو]" انتہی (روح  از علامہ آلوسی" (3/38))

 اسی طرح چند شارحینِ حدیث  نے تشہد کی دعا ذکر کرتے ہوئے جو شرح   کی ہے  وہاں اس سے ملتی جلتی بات ملتی ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی  نے "شرح سنن ابو داود" (4/238)  میں ذکر کی ہے، نیز ملا علی قاری نے اسے "مرقاۃالمفاتیح" میں ابن الملک سے نقل کیا ہے۔ اسی طرح یہ واقعہ کچھ فقہ کی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہےمثال کے طور پر "تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق" (1/121) اسی طرح قسطلانی اور شعرانی جیسے صوفیوں کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے۔ لیکن کسی نے بھی اس واقعہ کو سند کے ساتھ ذکر نہیں کیا، اس لیے اس واقعہ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا درست نہیں ہے، بالکل اسی طرح یہ واقعہ بچوں کو بھی نہیں سکھانا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی تمام احادیث کو بیان کرنا حرام ہے، صرف ایک صورت میں بیان کرنا جائز ہے جب ان احادیث کی حقیقت عیاں کرنا مقصود ہو اور ان سے لوگوں کو خبردار کرنا  ہو۔

الجواب باسم ملهم الصواب

تشہد کی حقیقت کے پس منظر میں  واقعہ معراج یا اللہ جل شانہ اور رسول  ﷺ کا باہمی مکالمہ متون حدیث کی کتب میں کہیں بھی سند متصل یا غیر متصل کے ساتھ نہیں ملا۔ البتہ علامہ قسطلانی رحمہ اللہ نے جو صحیح بخاری کے معروف شارحین میں سے ہیں اپنی کتاب ارشاد الساری للقسطلانی، باب التشہد فی الآخرۃ، 2\ 129 میں اس قصے کو مرقاۃ المفاتیح کے حوالے سے نقل فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ مرقاۃ المفاتیح حدیث کی اہم ترین کتاب مشکاۃ المصابیح کی شرح ہے۔ اس لیے اس روایت کو حدیث مرفوع کے طور پر نقل کرنا درست نہیں البتہ یہ واقعہ شروحات حدیث کے حوالے سے نقل کردیا جائے تو مضائقہ نہیں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4509 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل