لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

 صحیح مسلم حدیث نمبر 1959 کے حوالے سے ایک صحابیہ کے طلاق مانگنے کا واقعہ موصول ہوا ہے، آپ سے اس واقعہ کی تصدیق مطلوب ہے۔ برائے مہربانی اس کا جواب عنایت فرمادیں:

ایک صحابی رسول رات کو اپنے گھر میں آرام فرماتھے، انہیں پیاس لگی تو انہوں نے اہلیہ سے پانی مانگا، ان کی اہلیہ صحابیہ عورت تھی وہ پانی لے کرآئی تو وہ صحابی دوبارہ سو چکے تھے وہ عورت اتنی خدمت گزار تھی کہ پانی لے کر کھڑی ہوگئی، جب رات کا کافی حصہ گزر گیا تو صحابی کی آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کی وفادار بیوی پانی لے کر کھڑی ہے، پوچھا: تم کب سے کھڑی ہو؟ اس صحابیہ عورت نے جواب دیا کہ جب آپ نے پانی مانگا تھا میں پانی لے کر آئی تو آپ آرام فرماچکے تھے اس لیے میں نے آپ کو جگاکر آپ کے آرام میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور سونا بھی گوارا نہ کیا کیونکہ میں نے سوچا کہ ممکن ہے پھر آپ کی آنکھ کھلے اور آپ کو پانی کی طلب ہو اور کوئی پانی دینے والا نہ ہو ، کہیں خدمت گزاری اور وفا شعاری میں کوتاہی نہ ہوجائے اس لئے میں ساری رات پانی لے کر کھڑی رہی۔ جب اس عورت نے یہ کہا کہ میں ساری رات کھڑی رہی تو اس صحابی کی حیرت کی انتہانہ رہی وہ فوراًاٹھ کر بیٹھ گئے اور عجیب خوشی کی کیفیت میں اپنی بیوی سے کہنے لگے کہ تم نے خدمت کی انتہا کردی، اب میں تم سے اتنا خوش ہوں کہ آج تم مجھ سے جو مانگو گی میں دوں گا، صحابیہ نے کہا مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں بس تم راضی اور خوش رہو ،لیکن جب صحابی نے بار بار اصرار کیا تو عورت نے کہا اگر ضرور میرا مطالبہ پورا کرنا ہے تو مہربانی کرکے مجھے طلاق دے دو، جب اس نے یہ الفاظ کہے تو اس صحابی کے پاؤں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی ہو، وہ ہکے بکے اور حیران رہ کر اپنی بیوی کا منہ دیکھنے لگے کہ یہ کیا کہہ رہی ہے۔اس نے کہا اتنی خدمت گزار بیوی آج مجھ سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہو، اس نے کہا چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لئے تیرا مطالبہ تو پورا کروں گا لیکن پہلے چلتے ہیں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، آپ سے مشورہ کے بعد جو فیصلہ ہوگا اسی پر عمل کروں گا۔ چنانچہ صبح صادق کا وقت ہوچکا تھا یہ دونوں میاں بیوی اپنے گھر سے نکل کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ کی طرف روانہ ہوگئے، راستے میں ایک گڑھے میں صحابی کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گر گئے، اس کی بیوی نے ہاتھ پکڑ کر صحابی کو اٹھایا اور کہا آپ کو چوٹ تو نہیں آئی، صحابی نے کہا: اور تو کچھ نہیں البتہ پاؤں میں تکلیف ہے۔ صحابیہ عورت نے فرمایا: چلو واپس گھر چلیں، صحابی نے کہا اب تو قریب آچکے ہیں، صحابیہ کہنے لگیں، نہیں واپس چلو، چنانچہ جب واپس گھر آئے تو صحابی نے پوچھا کہ مجھے توسمجھ نہیں آئی کہ ساراماجرا کیا ہے، صحابیہ نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کسی سے سنا ہے کہ جسے ساری زندگی میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے ایمان میں شک ہے کیونکہ جو بھی ایمان دار ہوتا ہے وہ ضرور تکلیف میں آزمایا جاتا ہے، مجھے تو آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ۱۵ سال کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آپ کو کبھی سر میں بھی درد نہیں ہوا، اس لیے مجھے شک ہوگیا اور میں نے سوچا کہ ایسے آدمی کے نکاح میں رہنے کاکیا فائدہ ہے جس کا ایمان مشکوک ہے، اس لیے میں نے طلاق مانگی لیکن جب راستے میں آپ کے پاؤں میں چوٹ آئی تو میرا شک رفع ہوگیا کہ الحمد للہ آپ تکلیف میں آزمائے گئے اور آپ نے اس تکلیف پر صبر کیا۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

 یہ واقعہ باوجود بہت تلاش کرنے کے کسی بھی معتبر روایت میں نہیں مل سکا، نیز اس میں صحیح مسلم کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ بھی درست نہیں ہے۔ البتہ صحیح روایات میں ایسے مضامین موجود ہیں جن میں بیماری کے فضائل کو بیان کیا گیا ہے اور بیمار نہ ہونے کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا ہے۔ ایک روایت یہ ہے: 

ایک صحابی کا بیان ہے: فأتيتُه وهو تحتَ شجرةٍ قد بُسط له كساءٌ وهو جالسٌ عليه وقد اجتمع إليه أصحابُه فجلستُ إليهم، فذكر رسولُ اللهِ صلَّی اللهُ عليهِ وسلَّمَ الأسقامَ فقال: إنَّ المؤمنَ إذا أصابه السَّقمُ ثم أعفاه اللهُ منه كان كفارةً لما مضی من ذنوبِه وموعظةً له فيما يستقبلُ؛ وإنَّ المنافقَ إذا مرض ثم أُعفِيَ كان كالبعيرِ عقَلَه أهلُه ثم أرسلوه فلم يدرِ لمَ عقَلوه ولم يدرِ لم أرسلوه. فقال رجلٌ ممن حولَه: يارسولَ اللهِ! وما الأسقامُ؟ واللهِ ما مرضتُ قطُّ. فقال رسولُ اللهِ صلَّی اللهُ عليهِ وسلَّمَ قُمْ عنَّا فلستَ منَّا. (سنن ابي داود، اول كتاب الجنائز، باد الأمراض المكفرة للذنوب) ترجمہ: ’’میں آپ علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا تو آپ ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، آپ علیہ السلام نے بیماریوں کا تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا کہ مومن پر جب بیماری آتی ہے تو وہ اس کے گذشتہ تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور مستقبل کیلئے ایک نصیحت کا کام کرتی ہے اور منافق جب بیمار ہوتا ہے تو اس کی مثال اونٹ کی سی ہوتی ہے کہ اس کا مالک اس کو باندھ دے پھر کھول دے اور اس کو پتہ ہی نہ چلے کہ مجھے کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا. ایک شخص نے پوچھا یارسول اللہ! یہ بیماری کیا ہوتی ہے؟ خدا کی قسم میں تو کبھی بیمار ہی نہیں ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہماری مجلس سے آٹھ جاؤ، تم ہم میں سے نہیں ہو‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4255 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل