لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

 برائے مہربانی اس حدیث کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ نہیں؟

’’آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی مردے کو دفناؤ تو کوئی ایک شخص اس کے سرہانے بیٹھ جائے، جب سب لوگ چلے جائیں تو وہ شخص اس سے کہے کہ اے فلاں بن فلانہ (یعنی مردے کا نام لے اور اس کی والدہ کا نام لے)، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ اگر اس کی والدہ کا نام معلوم نہ ہو تو کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایاکہ حضرت حوا کی طرف نسبت کردیں (یعنی فلاں بن حوا)۔ آپﷺ فرماتے ہیں کہ جب پہلی مرتبہ اس کو پکارا جائے گا تو مردہ سنے گا لیکن جواب نہیں دے گا، تھوڑی دیر ٹھہر کر دوبارہ پکاریں تو وہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا، پھر اسی طرح تیسری مرتبہ پکاریں تو وہ کہے گا کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے، مجھے کچھ تلقین کرو (یہ آوازیں وہ شخص تو نہیں سن سکتا لیکن حدیث کے مطابق وہ کہتا ہے) لہذا وہ شخص کہے کہ جو کچھ تم دنیا سے کہتے آئے اسے یاد کرویعنی یہ کہ تمہارارب اللہ تعالیٰ ہے، تمہارا امام قرآن ہے، تمہارے رسول محمدﷺ ہیں اور تمہارا دین اسلام ہے (چار چیزوں کے بارے میں، رب کے بارے میں، نبی کے بارے میں، دین کے بارے میں اور امام یعنی قرآن کے بارے میں) آپﷺ فرماتے ہیں کہ جب اس طرح تلقین کی جائے گی تو جب منکر نکیر آئیں گےتو وہ کہیں گے کہ جس شخص کو اس کی حجت یا دلیل پہلے ہی سکھادی گئی ہو، اس سے ہم کیا سوال کریں؟ تو وہ بغیر سوال کیے ہی رخصت ہوجائیں گے‘‘۔

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ روایت طبرانی نے المعجم الکبیر میں ذکر کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے التلخیص الحبیر میں  طبرانی سے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کی سند میں ایک راوی سعید الأزدی  ضعیف ہیں، لیکن یہ روایت دیگر شواہد کی بناء پر معتبر ہے۔

لطبراني عن أبي أمامة "إذا أنا مت فاصنعوا بي كما أمرنا رسول الله صلی الله عليه وسلم أن نصنع بموتانا أمرنا رسول الله صلی الله عليه وسلم فقال "إذا مات أحد من إخوانكم فسويتم التراب علی قبره فليقم أحدكم علی رأس قبره ثم ليقل يا فلان بن فلانة فإنه يسمعه ولا يجيب ثم يقول يا فلان بن فلانة فإنه يستوي قاعدا ثم يقول يا فلان بن فلانة فإنه يقول أرشدنا يرحمك الله ولكن لا تشعرون فليقل اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وأنك رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا وبالقرآن إماما فإن منكرا ونكيرا يأخذ كل واحد منهما بيد صاحبه ويقول انطلق بنا ما يقعدنا عند من لقن حجته" قال فقال رجل يا رسول الله، فإن لم يعرف أمه قال ينسبه إلی أمه حواء يا فلان بن حواء"١ وإسناده صالح وقد قواه الضياء في أحكامه وأخرجه عبد العزيز في الشافي والراوي عن أبي أمامة سعيد الأزدي بيض له ابن أبي حاتم. (التلخيص الحبير ط العلمية، ٢/ ٣١٠)

لیکن محدث محمد بن اسماعیل صنعانی اور علامہ شوکانی رحمہما اللہ نے سعید الأزدی کے علاوہ ایک اور راوی عاصم بن عبد اللہ کو بھی ضعیف قرار دے کر شواہد میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ذکر کردہ آثار کو غیر ضروری فرمایا ہے۔ اسی طرح علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی موجود ہے جسے میں  جانتا نہیں۔ چنانچہ  ان کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے:

«سبل السلام للصنعانی: 1\501» وفي إسناده سعيد الأزدي بيض له أبو حاتم وقال الهيثمي بعد أن ساقه: في إسناده جماعة لم أعرفهم انتهی وفي إسناده أيضا عاصم بن عبد الله وهو ضعيف. . . وقال في المنار: إن حديث التلقين هذا حديث لا يشك أهل المعرفة بالحديث في وضعه کذا فی نيل الأوطار (٤/ ١٠٩).

الغرض محدثین کے ہاں اس روایت کی سند میں کلام ہے، بعض نے اس روایت کو معتبر اور بعض نے غیر معتبر فرمایا ہے۔ چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’في الدر المختار: ولا یلقن بعد تلحیدہ، وفی رد المحتار ذکر فی المعراج: أنہ ظاہر الروایۃ. 

اور ترجیح ظاہر روایت کو ہوتی ہے اور اس کے بعد میں جو تلقین کی مشروعیت کو نقل کیا ہے سو اول تو اس کے دلائل ضعیف ہیں، بعض ثبوتاً، بعض دلالۃً، پھر اس پر سب متفق ہیں کہ ضروری نہیں، اور غیر ضروری میں جب کوئی مفسدہ ہو متروک ہوجاتا ہے اور اس میں تشبہ بالروافض ہے اس لیے قابل ترک ہوا۔‘‘ (امداد الفتاویٰ)

یعنی دفنانے کے بعد مردے کو تلقین کے حوالے سے جو احادیث منقول ہیں ان میں سے بعض ضعیف ہیں اور بعض روایات مدعا پر صریح دلالت نہیں کرتیں، اس کے ساتھ ساتھ اس تلقین کا ضروری نہ ہونا سب کے نزدیک مسلم ہے۔ جب غیر ضروری قرار پایا تو روافض کی مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ 

(قوله: ولا يلقن بعد تلحيده) ذكر في المعراج أنه ظاهر الرواية … إلخ. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، ٢/ ١٩١)

وأما التلقين بعد الموت فلا يلقن عندنا في ظاهر الرواية، كذا في العيني شرح الهداية ومعراج الدراية. (الفتاوی الهندية، ١/ ١٥٧)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4512 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل