لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

درج ذیل روایت کی تحقیق مطلوب ہے: 

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’سیاہ کپڑے مت پہنا کرو، کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے‘‘۔ (من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق) 

الجواب باسم ملهم الصواب

از روئے شرع کالے کپڑے کی ممانعت ثابت نہیں۔ بہت سی روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ پہنا۔ اسی طرح آپ ﷺ کا سیاہ اون کا لباس پہننا بھی ثابت ہے:

«مسند أحمد»(43/ 33 ط الرسالة): عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا "جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا، فَلَمَّا عَرِقَ فَوَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا.

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے سیاہ اون کا ایک جبہ تیار کیا، جسے رسول اللہ ﷺ نے زیب تن فرمایا، لیکن پسینہ آنے پر جب آپﷺ نے اون کی بو اپنے بدن پر محسوس فرمائی تو  اسے پھینک دیا۔

لہٰذا فی نفسہ کالے کپڑے پہننا جائز ہے، تاہم محرم الحرام میں اہل تشیع سوگ منانے کے لیے کالے کپڑے اہتمام سے پہنتے ہیں، کالے کپڑے پہننے سے شیعوں کی مشابہت لازم آتی ہے اس لیے محرم کے مہینے میں کالے کپڑے نہیں پہننے چاہئيں۔ حدیث پاک میں ہے:

«سنن أبي داود»(4/ 44): «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ». 

ترجمہ:  جو شخص کسی قوم کا شعار اپنائے وہ انہی میں سے ہے۔

 جو روایت سوال میں ذکر کی گئی ہے وہ  کسی معتبر کتاب میں موجود نہیں، البتہ  اہل تشیع کی کتاب ’’من لا یحضرہ الفقیہ‘‘ میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے:

وقال أمير المؤمنين عليه السلام في ما علّم أصحابه: لا تلبسوا السواد؛ فإنّه لباس فرعون. (باب ما يصلي فيه وما لا يصلي فيه من الثياب و جميع الأنواع، 1\177،مؤسسة الأعلمی مطبوعات بیروت).

اس روایت کو اہل بیت یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرنے والے راوی بھی اہل تشیع ہیں، اور اہل تشیع تقیہ بازی (یعنی حق بات کو چھپا کر غلط بات کرنے) کو ایمان کا حصہ جانتے ہیں ، لہذا اہل تشیع کی بیان کردہ روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔  

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4525 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل