لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

اگر کوئی شخص کسی معاملے میں استخارہ کرتا ہے، جس میں مثبت صورت حال سامنے آتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ شخص اپنی مرضی سے کوئی اور کام کرے تو اس کا کیا حکم ہے اور اس طرح کرنے سے کیا ہوتا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی جائز کام کے بارے میں دل میں تردد پیدا ہوجائے کہ میرے حق میں بہتر ہے یا نہیں تو کام شروع کرنے سے پہلے دو رکعت استخارہ کی نماز پڑھ کر اللہ تعالی سے دعاء کرنا مسنون ہے۔ اس کےلیے کسی خواب کا آنا یا غیبی اشارہ ملنا ضروری نہیں، بلکہ اس کے بعد جس جانب بھی دل کا رجحان ہوجائے اس پر عمل کرلیا جائے تو یہ جائز ہے، اس میں ان شاء اللہ خیر ہوگی۔ 

وفي شرح الشرعة: المسموع من المشايخ أنه ينبغي أن ينام علی طهارة مستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور، فإن رأی منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير، وإن رأی فيه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب اهـ. الدر المختار وحاشية ابن عابدين/ رد المحتار، 2/ 27)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4517 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل