لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

میری والدہ نے اپنی ساری جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کر دی ہے۔ اب مزید جائیداد خریدی ہے،  وہ چاہتی ہیں کہ اب  یہ جائیداد وہ اللہ کے نام پر وقف کر دیں۔ یعنی ان کی وفات کے بعد ان کے بچوں ہی کے پاس رہے مگر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کی جائے، بچے اس کے نگران ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی جائیداد کو اپنی ملکیت میں رکھتے ہوئے اس کی منفعت کو وقف کرنا جائز ہے۔ اس صورت میں وقف کرنے والے کے انتقال کے بعد یہ جائیداد اس کے ورثاء کے پاس ہی رہے گی، تاہم ورثاء کے لیے اس کی منفعت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ضروری ہوگا۔ لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ جائیداد کی منفعت کو راہ خدا میں  وقف کر دیا جائے تو یہ معاملہ شرعاً درست  ہے، اور وقف کرنے والے کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔

«الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)» (4/ 337): (هو) لغة الحبس. وشرعا (حبس العين على) حكم (ملك الواقف والتصدق بالمنفعة) ولو في الجملة، والأصح أنه (عنده) جائز غير لازم كالعارية (وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى)…قال الشامي: (قوله ولو في الجملة) فيدخل فيه الوقف على نفسه ثم على الفقراء وكذا الوقف على الأغنياء ثم الفقراء…وذكر في الأصل: كان أبو حنيفة لا يجيز الوقف فأخذ بعض الناس بظاهر هذا اللفظ وقال لا يجوز الوقف عنده. والصحيح أنه جائز عند الكل، وإنما الخلاف بينهم في اللزوم وعدمه.

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4522 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل