لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

درج ذیل واقعہ کی تصدیق مطلوب ہے:

’’ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا فوت ہونے کے بعد والدین کی روحیں گھر لوٹتی ہیں؟ حضرت  علی نے جواب دیا: اے سلمان جب والدین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی روحیں اپنی اولاد کے پاس گھروں کو لوٹتی ہیں اور ان سے فریاد کرتی ہیں آہ و بکا کرتی ہیں اور یہ سوال کرتی ہیں کہ صدقات اور نیک اعمال کے ذریعے سے ان پر مہربانی کرو وہ اولاد سے اپنے لیے دعاؤں کا سوال کرتی ہیں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: روحیں کب کب اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں؟ فرمایا: یہ شب جمعہ کو اپنے اپنے گھروں کو لوٹتی ہیں اور اپنوں کو پکارتی ہیں جس کو لوگ نہیں سن سکتے پھر یہ روحیں مایوس ہو کر لوٹ جاتی ہیں سوائے ان کے جن کی اولاد نیکوکار اور والدین کے لیے صدقات و ایصال و ثواب کرتی رہتی ہیں۔ پھر فرمایا: اے سلمان! یاد رکھنا اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتے رہنا، جب کوئی اپنے مرحوم والدین کے لیے دعا کرتا ہے تو یہ روحیں اللہ تعالی سے فریاد کرتی ہیں: یا اللہ جس طرح ہماری اولاد نے ہمارے اوپر احسان کیا ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا تو بھی ان پر رحم فرما اور دنیاوی پریشانیوں تکلیفوں اور بیماریوں کو ان سے دور فرما ۔‘‘

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ تفصیل کے ساتھ یہ روایت ہمیں کسی معتبر مستند کتاب میں نہیں مل سکی، اس لیے اس کو حدیث کہہ کر بیان کرنا درست نہیں، جہاں تک شب جمعہ میں روحوں کے گھروں میں آنے کا تعلق ہے اس بارے میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی ’’اشرف الجواب‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’کسی مردہ کی روح کا جیسا کہ عوام میں مشہور ہے دنیا میں آنا صحیح نہیں معلوم ہوتا . . .  اگر تنعم (عیش و راحت) میں مردہ ہے تو اسے یہاں آکر لپٹے پھرنے کی کیا ضرورت ہے اور اگر معذب (عذاب میں مبتلا) ہے تو فرشتگانِ عذاب کیوں کر چھوڑ سکتے ہیں کہ وہ دوسروں کو لپٹتا پھرے۔‘‘ (اشرف الجواب، ص: 168، مکتبۃ عمر فاروق)

اس لیے یہ بات بھی درست نہیں اس کو آگے روایت کرنے سے احتیاط کرنا لازم ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4532 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل